قرآن میں غور و فکر
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۶
قرآن میں غور و فکر
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب اس لیے اتاری کہ اہل عقل اس کی آیتوں پر غور کریں اور اس سے نصیحت حاصل کریں (ص: 29) یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن میں گہری نصیحت موجود ہے، لیکن ان نصیحتوں کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کی آیتوں پر مسلسل غور کیا جائے۔ اس معاملے کی ایک سادہ مثال یہ ہے کہ قرآن کی سورہ نمبر 2 میں بتایا گیا ہے کہ آدم کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنے کے بعد جنت میں بسایا تھا، لیکن آدم نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ اس کے نتیجے میں وہ گنہگار ہو گئے۔ اس کے بعد قرآن میں یہ آیت آئی ہے: فتلقی آدم من ربه کلمات فتاب عليه، إنه هو التواب الرحيم (البقرة: 37) یعنی پھر آدم نے اللہ سے کچھ کلمات حاصل کئے تو اللہ اس پر متوجہ ہوا۔ بے شک اللہ تو بہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ اگر آپ اس آیت کو صرف تلاوت کے طور پر نہ پڑھیں، بلکہ اُس پر غور کریں تو آپ کے دل میں فوراً یہ سوال پیدا ہو گا کہ وہ کلمات دعا کیا تھے جو خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے آدم کو ملے ۔ یہ کلمات دعا اتنے مؤثر تھے کہ اس کو ادا کرنے کے بعد آدم کا گناہ معاف ہو گیا اور وہ دوبارہ اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پائے۔
جب آپ اس طرح غور کریں گے تو آپ پر کھلے گا کہ اس الہامی دعاء کے کلمات اگرچہ یہاں مذکور نہیں ہیں، لیکن وہ قرآن میں دوسرے مقام پر بتا دئے گئے ہیں۔ یہ دوسرا حوالہ ہم کو قرآن کی سورہ نمبر 7 میں ان الفاظ کے ساتھ ملتا ہے: ربنا ظلمنا أنفسنا، وإن لم تغفر لنا وترحمنا، لنكونن من الخاسرين (الأعراف: 23)، یعنی آدم اور حوا نے دعا کرتے ہوئے کہا، اے ہمارے رب، ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو ہم کو معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ قرآن کو غور و فکر کے ساتھ پڑھا جائے تو قرآن آدمی کے لیے دریافت کی کتاب بن جائے گا، اور بلا شبہہ دریافت سے بڑی کوئی چیز انسان کے لیے نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues