Al-Risala · April 2010 · page 9

خیرامت

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۹

خیرامت

قرآن کی سورہ نمبر 3 کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: کنتم خير أمة أخرجت للناس، تأمرون بالمعروف، وتنهون عن المنكر، وتؤمنون بالله (آل عمران: 110)

یعنی تم بہترین گروہ ہو، جس کو لوگوں کے واسطے نکالا گیا ہے۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

قرآن کی اس آیت میں، خیرامت کا مطلب خیر الامم یا افضل الامم نہیں ہے۔ قرآن کے یہ الفاظ دراصل امت کی مسئولیت (responsibility) کو بتاتے ہیں۔ اس مسئولیت کی طرف اشارہ 'الناس' کے لفظ میں پایا جاتا ہے، یعنی لتكونوا شهداء على الناس (البقرة: 143)۔ اس آیت کے ذریعے یہ اعلان کیا گیا کہ خاتم النبیین کے بعد پیغمبرانہ رول کی ادائیگی کے لیے امت محمدی کا تقرر کیا گیا ہے۔ پیغمبر کا کام شہادت علی الناس تھا۔ اب شہادت علی الناس کا یہی کام امت محمدی کو قیامت تک انجام دیتے رہنا ہے (لیکون الرسول شهيداً عليكم، وتكونوا شهداء على الناس)۔ لیکن امت محمدی کسی جامد گروہ کا نام نہیں ہے۔ دوسرے انسانی گروہوں کی طرح، امت محمدی میں بھی موت وحیات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس طرح ایسا ہوتا ہے کہ ایک نسل اپنی عمر پوری کر کے ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کی جگہ دوسری نسل آجاتی ہے۔ اس طرح توالد و تناسل کے ذریعے یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت کی حیثیت حکماً تو ہمیشہ یکساں طور پر باقی رہتی ہے، لیکن امت کے افراد ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ مثلاً صحابہ کے گروہ کے بعد تابعین کا گروہ، تابعین کے گروہ کے بعد تبع تابعین کا گروہ، اور تبع تابعین کے گروہ کے بعد ہر دور کے دوسرے مسلم گروہ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہم عصر مسلم گروہ (صحابہ) کی تربیت براہ راست کی تھی۔ اس پیغمبرانہ تربیت کو قرآن میں تزکیہ (البقرة: 129) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام کی تربیت کے ذریعے صحابہ خیر امت کی پہلی ٹیم بنے۔ اب سوال یہ ہے کہ بعد کی نسلوں کو دوبارہ خیر امت کا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues

Printed page