خیرامت
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۱۰
مصداق بنانے کا طریقہ کیا ہوگا۔ یہی وہ بات ہے جس کو آیت کے اگلے حصے میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنکر۔ اس آیت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے مراد تأمر بالمعروف اورتناهي عن المنكر ہے، یعنی اہل ایمان کا آپس میں ایک دوسرے کے اوپر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا۔ اس سے مراد دراصل داخلی تربیت کا نظام ہے۔ دوسرے الفاظ میں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی حیثیت اصلاحی تدابیر (corrective measures) کی ہے جو امت کو نسل درنسل مسلسل طور پر حالتِ خیر پر باقی رکھنے کی ضمانت ہے۔ خیر أُمّۃ‘ سے مراد امت کی نمائندہ حیثیت ہے۔ ’لِلناسِ‘ کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ اس امت کا خارجی نشانہ شہادت علی الناس ہے۔ تأمرون بالمعروف، وتنهون عن المنکر کے الفاظ میں، داخلی تربیت کے نظام کو بتایا گیا ہے۔ تؤمنون بالله‘ سے مراد امت کے افراد میں زندہ ایمان کو مسلسل طور پر باقی رکھنا ہے۔ یہی نظام امت کو، خیر امت کی حالت پر باقی رکھنے کی ضمانت ہے۔ امت کے اندر اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام باقی نہ رہے تو اللہ کے نزدیک امت کی حیثیت العیاذ باللہ، ملعون امت کی بن جائے گی، نہ کہ خیر امت کی۔ یہ انتباہ خود قرآن اور حدیث میں واضح طور پر دیا گیا ہے۔ اس معاملے کی سنگینی ایک حدیثِ رسول سے معلوم ہوتی ہے۔ یہ روایت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ الترمذی کے الفاظ یہ ہیں: لما وقعت بنو إسرائيل في المعاصي نهتهم علمائهم فلم ينتهوا، فجالسوهم في مجالسهم، واكلوهم وشاربوهم، فضرب الله قلوب بعضهم ببعض، فلعنهم على لسان داؤد وعيسي ابن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون۔ قال: فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان متكئاً، فقال: لا، والذي نفسي بيده حتى تأطروهم أطراً (كتاب التفسير) یعنی جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑ گئے، اُن کے علماء نے ان کو روکا، مگر وہ نہیں رکے۔ پھر علماء ان کی مجلسوں میں بیٹھے۔ انھوں نے ان کے ساتھ کھایا اور ان کے ساتھ پیا، پھر اللہ نے لوگوں کے دلوں کو ایک دوسرے سے متاثر کر دیا۔ چناں چہ اللہ نے داؤد اور عیسی بن مریم کی زبان سے اُن پر لعنت کی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues