کتمانِ حق
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۱۴
کتمانِ حق
قرآن کی سورہ نمبر 3 میں بتایا گیا ہے کہ یہود سے اللہ تعالیٰ نے عہد (میثاق) لیا۔ اِس عہد میں اُن کو یہ تاکیدی حکم دیا گیا تھا کہ: لتبيّنه للناس ولا تكتمونه (آل عمران: 187) یعنی تم خدائی ہدایت کو ضرور لوگوں کے سامنے پوری طرح کھول کر بیان کرو گے اور اُس کو لوگوں سے ہرگز نہ چھپاؤ گے۔ اس آیت میں یہود کے بارے میں جس حکم کا ذکر کیا گیا ہے، وہ خود یہود کی اصلاح کا حکم نہیں ہے، اس سے مراد غیر یہود کو وہ ہدایت پہنچانا ہے جو یہود کو اُن کے پیغمبروں کے ذریعے دی گئی تھی۔ یہ عین وہی حکم تھا جس کو امتِ محمدی کی نسبت سے، شهادت علی الناس (البقرة: 143) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اِسی ذمے داری کی بنا پر یہود کو وہ خصوصی حیثیت دی گئی جس کو منتخب گروہ (chosen people) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
اس تقرری کے عہد کا ذکر بائبل میں موجود ہے۔ مثلاً بائبل کی کتاب یسعیاہ میں یہود کے بارے میں ہے کہ۔ تم میرے گواه ہو: (Isaiah 43: 10) You are My witness - جوش انسائیکلو پیڈیا میں اس حقیقت کو حسب ذیل الفاظ میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے: بنی اسرائیل کو خصوصی طور پر یہ ذمے داری تفویض کی گئی تھی کہ وہ لوگوں کے سامنے خدا کی توحید کا اعلان کریں : Upon Israel specially devolved the duty of proclaiming God's unity شہادت علی الناس کی یہی ذمے داری اب امتِ محمدی کے اوپر ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں کتمان سے مراد کتاب کو یہود سے چھپانا نہیں ہے، بلکہ اس کو غیر یہود سے چھپانا ہے۔ یہی معاملہ امت محمدی کا ہے۔ امت محمدی اگر ایسا کرے کہ وہ خود قرآن کو پڑھے اور پڑھائے، لیکن وہ قرآن کو غیر مسلموں تک نہ پہنچائے تو یہ اس کے لیے قرآن کے کتمان کے ہم معنی ہوگا۔ اس قسم کا کتمان جس طرح یہود کے لیے خدا کے نزدیک اپنی اصل حیثیت کو کھونے کے ہم معنی تھا، اسی طرح یہ کتمان امت محمدی کے لیے بھی اس کی اصل حیثیت کو کھونے کے ہم معنی ثابت ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues