خیرامت
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۱۳
کسی مسلم معاشرے میں اگر کھلی تنقید کا ماحول نہ ہو تو یہ ایک سنگین خطرے کی علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ دین کے بارے میں بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں۔ سنانے والے مفاد پرستی میں مبتلا ہیں، اور سننے والے خود پرستی میں جی رہے ہیں۔ کسی معاشرے میں نہی عن المنکر یا تناهی عن المنکر کے ماحول کا ختم ہو جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ معاشرہ ایسے افراد سے خالی ہو گیا ہے جو خدا کے لیے تڑپے، جو خدا کے دین کی پامالی پر بے قرار ہو۔ مزید یہ کہ معاشرہ ایسے افراد سے بھی خالی ہو گیا ہے جو تنقید سننے کے بعد یہ کہہ سکیں کہ: میں غلطی پر تھا۔ ایسا معاشرہ دینی اعتبار سے، ایک مردہ معاشرہ ہے۔ ایسا معاشرہ گویا کہ زندوں کی بستی نہیں، بلکہ وہ مردوں کا قبرستان ہے۔ جب کوئی معاشرہ اس حالت تک پہنچ جائے تو اس کے اوپر سے خدا کی نصرت اٹھ جاتی ہے۔ خدا کی نصرت سے اسی محرومی کو قرآن اور حدیث میں لعنت کہا گیا ہے۔
تؤمنون بالله‘ ــ اللہ پر زندہ ایمان رکھنا، اللہ پر زندہ یقین کا مسلسل طور پر ذہن میں باقی رہنا، یہی ایمان باللہ ہے۔ اور اس قسم کا ایمان باللہ ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ امت اپنی مطلوب حالت پر مسلسل باقی رہے۔ زندہ ایمان ہوگا تو امت کے اندر مسئولیت کا احساس تازہ رہے گا۔ زندہ ایمان ہوگا تو امت شہادت علی الناس کے فرض کی ادائیگی میں مسلسل طور پر سرگرم رہے گی۔ زندہ ایمان ہوگا تو امت کے افراد ایک دوسرے پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ مطلوب انداز میں انجام دیتے رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ پر زندہ ایمان تمام فرائض کی حسنِ ادائیگی کی یقینی ضمانت ہے۔ قرآن میں اللہ کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ : کل یوم هو فی شأن (الرحمن: 29) یعنی اللہ ہر لمحہ ایک نئی شان کے ساتھ ہے۔ یہ اللہ کی صفت ہے۔ یہی صفت انسان کے اندر عبدیت کی سطح پر ہونا چاہیے ۔ اللہ پر ایمان وہ ہے جو تخلیقی ایمان ہو، جو ہر لمحہ ایک نئی ذہنی سرگرمی کے ہم معنی بن جائے۔ ایسا ایمان، ہی کسی آدمی کو مسلسل طور پر زندہ یقین عطا کر سکتا ہے۔ ایسے ایمان والے لوگ ہی اُس ذمے داری کو حقیقی طور پر انجام دے سکتے ہیں جو خیر امت سے مطلوب ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues