دل ایک معجزہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۱۷
دل ایک معجزہ
انسان کے جسم میں بہت سے آرگن (organ) ہیں۔ ان تمام آرگن کے درست طور پر چلنے سے انسان زندہ رہتا ہے، اور جب یہ آرگن کام نہ کریں تو انسان مر جاتا ہے۔ انھیں میں سے ایک آرگن وہ ہے جس کو دل (heart) کہا جاتا ہے۔ دل ایک عجیب آرگن ہے جو گردشِ خون کے نظام کو جسم کے اندر جاری رکھتا ہے:
Organ that serves as a pump to circulate the blood. دل ایک بے حد پیچیدہ نظام ہے۔ وہ رُکے بغیر مسلسل حرکت کرتا ہے۔ اس حرکت کی رفتار عمر کے لحاظ سے کم یا زیادہ ہوتی ہے۔ ایک بالغ آدمی کے دل کی حرکتِ اوسطاً 80 بار فی منٹ ہوتی ہے: The average adult rate is 80 per minute. دل کی یہ مسلسل حرکت فطری نظام کے تحت آٹومیٹک طور پر رات دن جاری رہتی ہے۔ اگر ایسا ہو کہ آدمی کو خود اپنے ہاتھ سے اس کو پمپ کرنا پڑے تو زندگی نا ممکن ہو جائے ۔ اس کے بعد آدمی کے لیے کسی اور کام کا وقت ہی نہیں رہے گا، حتیٰ کہ وہ رات کے وقت سو بھی نہیں سکے گا، کیوں کہ زندگی کو باقی رکھنے کے لیے رات کے وقت بھی پمپ کرنے کے اس کام کو جاری رکھنا ہے۔ اس طرح ان گنت فطری نظام ہیں جو انسانی جسم کے اندر اور انسانی جسم کے باہر مسلسل کام کرتے ہیں، اس کے بعد ہی اس زمین پر انسان جیسی مخلوق کا وجود ممکن ہوتا ہے۔ یہ انتظامات اتنے زیادہ ہیں کہ آدمی اُن کو گن بھی نہیں سکتا۔
اگر آدمی گہرائی کے ساتھ سوچے تو ہر وقت وہ شکر کے احساس میں جینے لگے۔ وہ کامل طور پر غرور اور سرکشی کی نفسیات سے خالی ہو جائے۔ وہ مکمل طور پر ایک متواضع (modest) انسان بن جائے ۔ وہ بے اعترافی جیسی چیزوں کا تحمل نہ کر سکے۔ یہی معرفت ہے۔ اسی معرفت کا شعور انسان کو وہ مطلوب انسان بناتا ہے جس کو قرآن میں ربانی انسان کہا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues