موت کا زندہ تصور
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۱۸
موت کا زندہ تصور
31 جنوری 2010 کو میرے چھوٹے بھائی عبد المحیط خاں (انجینئر) کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت وہ فیض آباد میں تھے۔ ان کی عمر تقریباً 75 سال تھی۔ میں نے اپنی لمبی عمر میں ہزاروں افراد کو مرتے ہوئے دیکھا ہے یا ان کی موت کی خبر سنی ہے۔ لیکن میرے بھائی کی موت میرے لیے ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔ اس نے میرے اندر ایک نیا تصور پیدا کیا۔ اس کو اگر میں کوئی نام دوں تو میں کہوں گا کہ موت کا زندہ تصور (living concept of death)۔
میں نے غور کیا کہ موت کے بارے میں یہ نیا شعور میرے اندر کیوں پیدا ہوا۔ اصل یہ ہے کہ ہم لوگ 6 بھائی بہن تھے۔ چھوٹے بھائی کے انتقال کے بعد مجھے اچانک محسوس ہوا کہ میرے سوا تمام بھائی بہن مر چکے ہیں۔ اس اعتبار سے، اب میں اکیلا رہ گیا ہوں ۔ اس احساس سے مجھے سخت جھٹکا لگا۔ میں نے سوچا کہ میرے بھائی اور بہن کل تک اسی دنیا میں تھے جہاں کہ میں ہوں، لیکن اب وہ ایک ایک کر کے مر چکے ہیں، یہاں تک کہ 6 بہن بھائیوں میں اب میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ وہ لوگ اس دنیا سے نکل کر ایک اور دنیا میں پہنچ چکے ہیں۔ اب نہ وہ مجھ سے مل سکتے ہیں اور نہ میں اُن سے مل سکتا۔ موت نے مجھ کو اپنے تمام بھائی بہنوں سے ابدی طور پر جدا کر دیا۔
موت کیا ہے۔ موت ایک جبری انخلا (compulsory expulsion) کا معاملہ ہے۔
موجودہ زندگی میں ہر آدمی اپنے لیے ایک دنیا بناتا ہے۔ گھر، جائیداد، بزنس، اولاد، تعلقات، شہرت، عوامی حلقہ، عہدہ، سماجی پوزیشن، وغیرہ۔ ان تمام چیزوں کی بنیاد پر ہر آدمی کی اپنی ایک چھوٹی یا بڑی دنیا ہوتی ہے، جس کے اندر وہ صبح و شام گزارتا ہے۔ وہ اس کو اپنی دنیا سمجھتا ہے۔ لیکن اچانک موت کا وقت آ جاتا ہے اور فرشتے اس کو جبری طور پر موجودہ دنیا سے نکال کر اُس دنیا میں پہنچا دیتے ہیں، جہاں اس کے پاس اپنے ذاتی وجود کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا۔ موت کے واقعے کو صرف وہ شخص جانتا ہے جو اس حقیقت کا زندہ شعور رکھتا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues