ذہنی افق
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۱۹
ذہنی افق
ذہنی افق (intellectual horizon) کے کئی درجے یا کئی سطحیں ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ معاملہ افق بالائے افق کا معاملہ ہے۔ اعلیٰ حقیقتوں کا ادراک صرف وہ افراد کرسکتے ہیں جو اعلیٰ ذہنی افق کے مالک ہوں۔ کم تر ذہنی افق کے لوگ اعلیٰ حقیقتوں سے آشنا نہیں ہو سکتے۔ یہی معاملہ ایمان کا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ صحابہ کی مثال قابلِ ذکر ہے جو حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ مثلاً عمر بن الخطاب (وفات: 23ھ)، معاذ بن جبل (وفات: 18ھ)، عبداللہ بن رواحہ الانصاری (وفات: 8ھ)۔ ان حضرات کا طریقہ تھا کہ وہ بعض صحابہ کے ساتھ بیٹھ کر اللہ کا چرچا کرتے اور کہتے کہ آؤ، ہم اضافہ ایمان کے لیے کر رہے ہیں۔ ایک بار عبداللہ بن رواحہ نے ایک صحابی سے کہا کہ آؤ، ہم ایک ساعت کے لیے ایمان لائیں ۔ وہ صحابی غصہ ہو گئے ۔ انھوں نے کہا کہ کیا ہم مؤمن نہیں ہیں، پھر وہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ عبداللہ بن رواحہ آپ پر ایمان کے بعد ایک ساعت کا ایمان حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ابن رواحہ پر رحم کرے، وہ ایسی مجلسوں کو پسند کرتے ہیں جن پر فرشتے بھی رشک کرتے ہیں (رحم اللہ ابن رواحة، إنه يحب المجالس التى تتباهى بها الملائكة ) حياۃ الصحابة، باب إيمان الصحابه بالغیب، مجالس الإيمان، جلد 3، صفحہ 13۔
ایمان باللہ کا ابتدائی درجہ وہ ہے جو کلمۂ شہادت ادا کرنے کے بعد کسی آدمی کو حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن ایمان باللہ ایک اضافہ پذیر چیز ہے۔ چناں چہ قرآن میں ایمان کو پودے سے تشبیہ دی گئی ہے جو مسلسل بڑھتا رہتا ہے (ابراهيم: 24-25)۔ ایک مومن جب اللہ کے بارے میں سوچتا ہے، جب وہ اس موضوع کا مطالعہ کرتا ہے، جب وہ اس پہلو سے کائنات کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس عمل کے دوران اللہ پر اُس کا یقین بڑھتا رہتا ہے، وہ اللہ کی اعلیٰ صفات کی بار بار دریافت کرتا رہتا ہے، اُس کو بار بار یقین و ایمان کی نئی خوراک ملتی رہتی ہے۔ یہ وہ اہلِ ایمان ہیں جو اعلیٰ ذہنی افق پر ایمان باللہ کا تجربہ کرتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues