گرہن ایک خدائی معجزہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۲۳
گرہن واقع ہوگا۔ اور جب ان کے درمیان زمین ہو تو چاند گرہن واقع ہوگا۔ یہ وسیع خلا میں ایک انتہائی انوکھی پوزیشننگ کا معاملہ ہے:
گرہن (eclipse) اُس وقت واقع ہوتا ہے جب کہ وسیع خلا کے تین اجرام، زمین، چاند، سورج، انتہائی متناسب دوری کے ساتھ بالکل ایک سیدھ میں آ جائیں۔ یہ ایک انتہائی حیرت ناک ظاہرے ۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے انسائیکلو پیڈیا بر بیٹنکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ— ایک انتہائی غیر معمولی توافق کی بنا پر سورج اور چاند کا سائز اور دوری ایسے ہو جاتے ہیں کہ زمین سے بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے گویا کہ دونوں بالکل برابر ہوں:
گرہن کے اِس عجیب واقعے کو مقالہ نگار نے محض اتفاق (coincidence) قرار دیا ہے۔ مگر یہ بالکل غیر منطقی بات ہے۔ اِس قسم کا نادر اتفاق اولاً تو ممکن نہیں اور بالفرض اگر ایسا ہو جائے تو وہ بمشکل ایک بار ہو سکتا ہے، لیکن فلکیاتی تاریخ بتاتی ہے کہ گرہن کا یہ واقعہ لاکھوں برس سے اسی طرح پابندی (regularity) کے ساتھ ہر سال پیش آرہا ہے۔ اس قسم کی کامل باضابطگی ہرگز اتفاقاً نہیں ہوسکتی۔ یقینی طور پر وہ ایک قادر مطلق ہستی کی مسلسل کار فرمائی کے باعث ہی ممکن ہے۔ اتفاق کا لفظ اس حیرت ناک فلکیاتی ظاہر ہے کی توجیہہ کے لیے آخری حد تک ناکافی ہے۔
گرہن، خلا میں پیش آنے والے اُن بے شمار معجزاتی واقعات میں سے ایک ہے جن کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: ذلك تقدیر العزیز العلیم (یٰس : 38) یعنی یہ عزیز اور علیم خدا کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے:
‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues