کارٹونسٹ کے لیے تحفہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۲۶
کارٹونسٹ کے لیے تحفہ
8 فروری 2010 کو نئی دہلی میں ایک تعلیم یافتہ نومسلم سے ملاقات ہوئی۔ ان کا نام یہ ہے: عبد الواحد (Abdul Wahid Pederson)۔ وہ ڈنمارک کی راجدھانی کوپن ہیگن (Copenhagen) میں رہتے ہیں۔ ان سے پہلی ملاقات اکتوبر 2009 میں دوحہ (قطر) کی انٹرنیشنل کانفرنس میں ہوئی تھی۔ 8 فروری 2010 کی ملاقات میں انھوں نے ہمارے یہاں کا مطبوعہ اسلامی لٹریچر لیا، تاکہ وہ اس کو ڈنمارک کے لوگوں تک پہنچائیں۔
گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ عرصے سے میری تمنا تھی کہ ڈنمارک کے اُس کارٹونسٹ کو سیرت کے موضوع پر ایک کتاب پہنچائی جائے جس کا ایک کارٹون ڈنمارک کے ایک اخبار میں چھپا تھا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے اس سے اتفاق ہے۔ پھر میں نے ان کو سیرت رسول کے موضوع پر اپنی تازہ مطبوعہ کتاب ’’پرافٹ آف پیس‘‘ (The Prophet of Peace) کے دو نسخے دئے جو حال میں انٹرنیشنل اشاعتی ادارہ پنگوئین بکس (Penguin Books) نے شائع کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں ان شاء اللہ قر کا انگریزی ترجمہ اور یہ کتاب دستی طور پر مذکورہ کارٹونسٹ تک پہنچاؤں گا۔ مسٹر عبد الواحد نے بتایا کہ کارٹون کو لے کر مسلم دنیا میں جو احتجاج کیا گیا، اُس سے باہر کے مسلمانوں میں یہ ذہن بنا کہ ڈنمارک کے لوگ اسلام کے مخالف ہیں، مگر یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ ڈنمارک کے لوگ بہت سادہ مزاج کے ہوتے ہیں۔ وہاں تیزی سے اسلام پھیل رہا ہے اور وہاں کے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ احتجاج اور مظاہرے کا طریقہ بلا شبہ ایک غیر اسلامی طریقہ ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اگر کارٹون جیسا کوئی واقعہ پیش آئے تو اس کو دعوت کے ایک موقع کے طور پر لیا جائے اور لوگوں تک اسلام کا مثبت پیغام پہنچایا جائے۔ اسی کو قرآن آن میں اعراض (avoidance) کہا گیا ہے۔ اعراض کی پالیسی کے بغیر دعوت کا کام مؤثر طور پر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت کے عمل میں اعراض کی اہمیت اتنی ہی زیادہ ہے، جتنا کہ خود دعوت کی اہمیت۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues