Al-Risala · April 2010 · page 27

سیاسی فتنه

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۲۷

سیاسی فتنه

حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو یہ ہدایت دی کہ تم لوگ سیاسی بگاڑ کے مسئلے کو لے کر حکمرانوں سے ہرگز ٹکراؤ نہ کرنا۔ اس سلسلے میں حضرت ثوبان بن یحدہ کی ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: إذا وضع السيف في أمتي، لم يُرفع عنها إلى يوم القيامة (رواه احمد وابو داود، بحواله مشكاة المصابيح، رقم الحديث: 5406) یعنی جب میری امت کے اندر تلوار داخل کی جائے گی تو اس کے بعد وہ قیامت تک اُس سے اٹھائی نہیں جائے گی۔ اس حدیث میں سادہ طور پر صرف ایک اخلاقی تعلیم نہیں ہے، بلکہ اس میں ایک نہایت گہری سیاسی حکمت چھپی ہوئی ہے۔ اگرچہ اس حکمت کو پوری تاریخ میں کوئی شخص دریافت نہ کر سکا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ امت کے اندر حضرت عثمان کے زمانے میں تلوار داخل ہوئی تو اب تک وہ امت سے رفع نہ ہوسکی۔ جن مسلمانوں نے حضرت عثمان کو قتل کیا، انھوں نے کیوں ایسا کیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان کو حضرت عثمان آئیڈیل سیاست کے معیار پر کم دکھائی دئے۔ مگر یہ معاملہ حضرت عثمان پر نہیں رکا۔ اس کے بعد دوبارہ سیاسی معیار کو لے کر حضرت علی کو شہید کر دیا گیا، اسی معیار کی بنیاد پر لوگوں نے حضرت معاویہ سے جنگ کی ، اسی معیار کی بنیاد پر حضرت حسین کا ٹکراؤ یزید کے ساتھ پیش آیا، وغیرہ۔ اصل یہ ہے کہ قانون فطرت کے مطابق ، اس دنیا میں کوئی بھی سیاسی نظام آئیڈیل نہیں ہوسکتا۔ سیاسی نظام کے معاملے میں ہمارے لیے صرف ایک ہی ممکن انتخاب ہے، وہ یہ کہ سیاسی نظام کو آئیڈیل سے نہ ناپیں، بلکہ آئیڈیل سے کم (less than ideal) پر راضی ہو جائیں ۔ ایسا نہ کیا جائے تو ایک حکمراں کو ہٹانے کے بعد جو دوسرا حکمراں آئے گا، وہ بھی لوگوں کو آئیڈیل سے کم دکھائی دے گا، اس طرح نئے حکمراں سے دوبارہ لڑائی شروع ہو جائے گی اور پھر وہ کبھی ختم نہ ہوگی۔ مذکورہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ اس معاملے میں پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) کا طریقہ اختیار کرو، اور موجودہ حکمراں پر راضی رہتے ہوئے غیر سیاسی دائرے میں تعمیر اور ترقی کا کام جاری رکھو۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues

Printed page