Al-Risala · April 2010 · page 28

امن، انصاف

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۲۸

امن، انصاف

انسان کو امن (peace) کی ضرورت ہے اور انصاف (justice) کی ضرورت ۔ بہتر سماج کے قیام کے لیے دونوں یکساں طور پر ضروری ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ دونوں کو کس طرح حاصل کیا جائے۔ عام تصور یہ ہے کہ لوگوں کو پہلے انصاف دیا جائے، اس کے بعد وہ اپنے آپ امن کے مطابق رہنے لگیں گے۔ مگر یہ سوچ فطرت کے نظام کے خلاف ہے۔ اس دنیا میں کسی کو کوئی چیز صرف فطرت کے قانون کی پیروی کر کے مل سکتی ہے۔ فطرت کے نظام کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اس دنیا میں کچھ ملنے والا نہیں۔ فطرت کے نظام کے مطابق، امن کا فائدہ صرف یہ ہے کہ وہ مواقع (opportunities) کو کھولتا ہے۔ اور انصاف کے حصول کا ذریعہ یہ ہے کہ ان مواقع کو دانش مندی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ امن کا تعلق خارجی مواقع سے ہے، اور انصاف کا تعلق خود اپنی جدوجہد سے۔ تاریخ میں جب بھی کسی کو امن اور انصاف ملا ہے، اسی فطری اصول کی پیروی کے ذریعے ملا ہے۔ اس اصول کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اس دنیا میں کبھی نہ امن ملا ہے اور نہ انصاف۔ جب بھی کوئی گروہ انصاف سے محروم ہو تو اس کا سبب ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس نے انصاف کو پانے کے لیے اپنا حصہ ادا نہیں کیا۔ اگر آپ کا یہ احساس ہو کہ آپ انصاف سے محروم ہیں تو براہ راست انصاف کے لیے لڑائی نہ چھیڑیے، بلکہ یک طرفہ طور پر صبر کی پالیسی اختیار کر کے امن قائم کیجئے۔ امن کے قائم کرتے ہی یہ ہوگا کہ مواقع اور امکانات کے تمام راستے آپ کے لیے کھل جائیں گے۔ آپ کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ آپ ان مواقع اور ان امکانات کو استعمال کرتے ہوئے حصولِ انصاف کی نتیجہ خیز جدوجہد شروع کر دیں۔ یہی اس دنیا میں حکمتِ حیات ہے۔ جو شخص یا گروہ اس دنیا میں کچھ پانا چاہتا ہے، اُس کو سب سے پہلے یہ کرنا ہوگا کہ وہ یک طرفہ طور پر ٹکراؤ کا طریقہ ختم کر دے، اور پھر ذاتی تعمیر کے ذریعے انصاف کے حصول کی جدوجہد کرے۔ موجودہ دنیا میں امن پہلا قدم ہے اور انصاف دوسرا قدم۔ جو لوگ پہلا قدم نہ اٹھائیں، اُن کے لیے دوسرا قدم اس دنیا میں مقدر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues

Printed page