نفسیاتی خودکشی سے بچئے
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۳۶
سوال و جواب سوال ماہ اکتوبر (2009) کا شمارہ نظر نواز ہوا۔ ویسے تو آپ کی ہر تحریر مبنی بر حقیقت اور گہرے درد میں ڈوبی ہوتی ہے، لیکن مذکورہ شمارہ میں جو کچھ آپ نے مسئلہ فلسطین پر سپرد قرطاس کیا ہے، میں اس سے کلی طور پر اتفاق کرتا ہوں۔ یہ حقیقت دراصل بہت لوگوں کے گوشہائے قلب و دماغ میں ہے، مگر اندیشۂ مخالفت، خوفِ بدنامی، اتہام و الزام کا ڈر اظہار سے مانع ہے۔ مجھے دل کی گہرائیوں سے سلام کرنے کو جی چاہتا ہے آپ کے عزیمت بھرے اور شجاعتِ اظہار سے پر قلم کو۔ ہو سکتا ہے بہت سے تنگ دماغوں اور مزاجِ شریعت سے نا آشنا لوگوں کے لئے یہ بات نا قابلِ قبول بلکہ ایمان و اسلام کے منافی ہو، لیکن حقیقت یہی ہے کہ جو بات آپ نے رقم فرمائی ہے، وہ نصوصِ ثابتہ اور تاریخ سے واضح طور پر سمجھ میں آ رہی ہے۔ قُدس اور فلسطین کا مسئلہ جو ساری امت اسلامیہ کے لیے سوہانِ روح بن چکا ہے، اس کی افزائش میں انا کا بہت دخل ہے۔ حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اگر سوچا جائے تو یہ بات صاف طور پر سمجھ میں آ جاتی ہے۔ میری تو تمنا اور خواہش ہے کہ اس مسئلہ کو صرف الرسالہ تک ہی محدود نہ کر دیا جائے بلکہ عالمی مسلم اور یہودی رہنماؤں کے سامنے اس بات کو پر امن حل کے طور پر پیش کیا جائے ۔ انٹر نیشنل لیول پر اس بات کو رکھا جائے، اور مسئلہ کے اس غیر متشددانہ حل کو پیش کیا جائے تا کہ اہل عقل اس قندیل کی روشنی میں مستقبل کی راہوں کا تعین کر سکیں۔ امید کہ آپ اس بات کی طرف توجہ دیں گے۔ محترم، اس پورے مضمون میں ایک سوال میرے دل میں کھٹکتا رہا کہ آپ نے صفحہ نمبر 21 پر یہ بات رقم فرمائی ہے کہ ــــ نزول قرآن کے وقت یہاں کوئی عمارت نہیں تھی، بلکہ صرف ہیکل کی خالی جگہ (site) تھی۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں 638ء میں مسلمان یروشلم میں داخل ہوئے ۔ حضرت عمر نے ہیکل کی جگہ پر کوئی عمارت تعمیر نہیں کی۔ بعد کو اموی دور میں خلیفہ عبد الملک بن مروان وفات 706 ء نے ہیکل کی جگہ 688ء میں موجودہ مسجد اقصیٰ تعمیر کی۔ مگر قرآن میں جہاں واقعہ اسراء کا تذکرہ ہے ــــ من المسجد الحرام إلى المسجد الاقصىٰ (بنى إسرائيل : 1)۔ وہاں مسجد اقصیٰ کا صاف طور پر نام لیا گیا ہے۔ اور صحیح ترین روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد اقصیٰ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues