Al-Risala · April 2010 · page 37

نفسیاتی خودکشی سے بچئے

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۳۷

میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی ہے اور بعض تاریخی روایات سے یہ بات بالکل صاف طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت وہاں مسجد الاقصیٰ موجود تھی۔ حافظ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں فتح بیت المقدس کے تحت حضرت عمر کے بارے میں ذکر کیا ہے "ودخل المسجد من الباب الذى دخل منه رسول الله صلى الله عليه وسلم (البداية والنهاية 8/55) حافظ ابن عسا کر دمشقی نے اپنی مشہور کتاب المستقصى فى فضائل المسجد الاقصی میں عہد فاروقی میں فتح بیت المقدس اور تعمیر و توسیع مسجد اقصیٰ کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ نیز ابن کثیر نے المسجد اقصیٰ کے تحت حضرت عمر کے بارے میں ذکر کیا ہے: ثم نقل التراب عن الصخرة فى طرف ردائه (البداية والنهاية 8/58)- حافظ ضیاء الدین مقدسی نے امام احمد کے واسطہ سے ایک لمبی تاریخی روایت ذکر کی ہے جس میں نزول قرآن کے وقت مسجد اقصیٰ کے وجود اور عہد فاروقی میں اس کی تعمیر و توسیع صاف طور پر معلوم ہوتی ہے۔ براہِ کرم، اس شبہہ کا ازالہ اور اس کنفیوژن کو دور فرمائیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ (محمد ثناء اللہ قاسمی، محبوب نگر، آندھرا پردیش) جواب 1- مسجد اقصیٰ کے بارے میں مسلم تاریخوں میں جو بات کہی گئی ہے، وہ میرے علم میں ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی لکھی ہوئی تاریخی کتابوں کے علاوہ، جو دیگر تاریخی ریکارڈ ہے، وہ اس سے مختلف ہے۔ ایسی حالت میں ہمارے لیے ایک ہی راستہ ہے، وہ یہ کہ دونوں میں سے ایک کے بیان کو اصل مانیں اور دوسرے بیان کی تاویل کریں۔ میں نے اس معاملے میں، مسلم مورخین کے بیان کو تاویل کے خانے میں ڈالا ہے اور دوسرے تاریخی ریکارڈ کو اصل قرار دیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ابن خلدون (وفات: 1406ء) سے پہلے، مسلم تاریخ نگاروں کے یہاں عام طور پر علمی ذوق کا رواج نہ تھا۔ وہ خالص تاریخی واقعات کے ساتھ مروجہ قصہ کہانیوں کو بھی اس میں شامل کر دیتے تھے۔ اس لیے اُس زمانے میں لکھی ہوئی تاریخوں پر کلی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

2- مسجد اقصیٰ کے بارے میں جو بات میں نے لکھی ہے، وہ بظاہر عمومی تصور کے خلاف ہے، لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ اس رائے کی اصل دوسرے مسلم محققین کے یہاں بھی موجود ہے۔ مثال کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues

Printed page