Human Unity: Inter Faith Dialogue
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۴۵
چاہیے۔ یہ ویسا ہی معاملہ ہے جیسا کہ پاسپورٹ پر فوٹو لگانا، جس کو تمام علما ء جائز قرار دیتے ہیں۔ 31-30 جنوری 2010 کو دھرم بھارتی مشن کی سالانہ کانفرنس ممبئی میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر شر کاء میں 100 کاپیاں قرآن کی اور 500 سے زائد دیگر دعوتی لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ اس کانفرنس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو موجود تھے، لوگوں نے لٹریچر کو بہت پسند کیا۔ حمید اللہ حمید اور منظور احمد تانترے کشمیر سے اس کانفرنس میں مدعو تھے، اس موقع پر انھوں نے لوگوں کو مطالعے کے لیے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دیگر دعوتی لٹریچر دیا۔ راج گھاٹ (نئی دہلی) میں مراری باپو (گجرات) کا ایک پروگرام 3 فروری 2010 کو ہوا۔ اس پروگرام میں تقریباً پانچ ہزار ہندو موجود تھے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس میں شرکت کی اور امن اور اسلام کے موضوع پر آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ اس موقع پر سی پی ایس کی طرف سے وہاں اسلامی لٹریچر پر مشتمل ایک اسٹال لگایا گیا۔ یہاں سے حاضرین کو دعوتی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ مطالعے کے لیے بطور ہدیہ پیش کیا گیا۔ لوگوں نے اس کو نہایت شوق سے لیا۔ یہاں کئی ہندوؤں نے کہا کہ آج ہم پہلی بار قرآن کو دیکھ رہے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی میں 6 فروری 2010 کو ایک سمپوزیم ہوا۔ یہ سمپوزیم ایم وی کالج کی طرف سے یونیورسٹی کے اے این باسو آڈیٹوریم میں کیا گیا۔ اس کا موضوع یہ تھا:
Human Unity: Inter Faith Dialogue
اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس میں شرکت کی اور انگریزی زبان میں موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ اس موقع پر سی پی ایس کی طرف سے حاضرین کو دعوتی لٹریچر اور قرآن کا ہندی اور انگریزی ترجمہ دیا گیا۔
جنوری 2010 کا الرسالہ اپنی تمام تر تجلیوں کے ساتھ فردوس نظر ہوا۔ آپ کا رسالہ دنیائے صحافت کا ایک منفرد رسالہ ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ مختار اشرف لائبریری کے قارئین "الرسالہ" کو بہت شوق سے پڑھتے ہیں حال یہ ہے کہ پڑھنے والا پڑھتا جاتا ہے، اسے تھکاوٹ کا احساس تک نہیں ہوتا۔ تقریباً 300 قارئین کی جانب سے آپ کو مبارک باد (عابر قالین آباد، مختار اشرف لائبریری، کچھوچھہ، امبیڈکر نگر، یوپی)
گڈ ورڈ بکس اور سی پی ایس کی طرف سے دوسرے ممالک کے علاوہ، یورپ اور امریکا کے ممالک میں مختلف مقامات پر قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر بڑے پیمانے پر بھیجا جارہا ہے۔ حال ہی میں کینڈا کے ایک مسیحی اسکول (Hamilton School) میں قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر بھیجا گیا۔ اس سلسلے میں اسکول کے ایک ذمے دار کا خط موصول ہوا جو یہاں نقل کیا جاتا ہے:
I just wanted to let you know that the Qurans, DVDs and booklets have all successfully arrived at my school. After opening the package and begining to stamp the materials with school
‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues