یاجوج اور ماجوج
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۲
قیامت کا المارم انسانی تاریخ کے خاتمے کا آغاز قرآن، خدا کی آخری الہامی کتاب ہے۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اوّل میں پیغمبر آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر نازل ہوا۔ قرآن کا موضوع بنیادی طور پر یہ ہے کہ انسان کو خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) سے آگاہ کیا جائے۔ اس تخلیقی پلان کے مطابق، موجودہ دنیا محدود مدت کے لیے بنائی گئی ہے۔ ایک وقت آئے گا، جب کہ اس دنیا کو ختم کر دیا جائے گا۔ اُس کے بعد قیامت قائم ہوگی۔ تمام انسان دوبارہ زندہ ہو کر خالقِ کائنات کے سامنے حاضر کیے جائیں گے اور پھر ہر ایک کے ریکارڈ کے مطابق، اُن کے لیے ابدی انجام کا فیصلہ کیا جائے گا۔ قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ کے خاتمہ (end of history) سے پہلے کچھ واضح نشانیاں ظاہر ہوں گی، جو گویا انسان کے لیے آخری وارنگ (final warning) کے ہم معنی ہوں گی۔ ان نشانیوں کے ظہور کے بعد خدا، فرشتہ اسرافیل کو حکم دے گا۔ وہ ایک صور پھونکیں گے اور پھر اچانک انسانی تاریخ اپنے عارضی دور سے گزر کر اپنے ابدی دور میں داخل ہو جائے گی، یعنی عمل کے دور کا خاتمہ اور انجام کے دور کا آغاز۔ قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی یہ نشانیاں خاص طور پر پانچ ہوں گی۔ قرآن اور حدیث کے بیان کے مطابق، یہ نشانیاں حسبِ ذیل ہیں : 1- یاجوج اور ماجوج کا خروج۔ 2- دجال کا ظاہر ہونا۔ 3- مہدی کا ظہور۔ 4- مسیح کا نزول۔ 5- موسمیاتی تبدیلی۔
یاجوج اور ماجوج
یاجوج اور ماجوج کا ذکر قرآن میں دو مقام پر آیا ہے (الکہف: 94؛ الأنبياء: 96)۔ حدیث کی کتابوں (صحيح البخاري، صحيح مسلم، الترمذی، ابن ماجه، مسند احمد) میں بھی متعدد روایات کے تحت، یاجوج اور ماجوج کا تذکرہ موجود ہے۔ اسی طرح بائبل کے