Al-Risala · May 2010 · page 3

یاجوج اور ماجوج

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۳

بعض ابواب مثلاً حزقی ایل(Ezkiel) میں یا جوج اور ماجوج (Gog and Magog) کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ دوسرے مذاہب میں بھی یا جوج اور ماجوج کا ذکر موجود ہے۔ مثلاً ہندوازم کی مقدس کتاب پران میں یا جوج اور ماجوج کو کوکا اور وکوکا (Koka and Vikoka) کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن کی تفسیروں اور احادیث کی شرحوں میں یا جوج اور ماجوج کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ تاہم یا جوج اور ماجوج کے معاملے میں ابھی تک اہل علم کی کوئی متفقہ رائے سامنے نہیں آئی ہے۔ ایسی حالت میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ تمام حوالوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسی رائے پر پہنچنے کی کوشش کی جائے جو اس سلسلے میں متعلق حوالوں (relevant data) سے علمی طور پر مطابقت رکھتی ہو۔ راقم الحروف نے اِسی اصول کے تحت ، یا جوج اور ماجوج سے متعلق حوالوں کا مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعے کے بعد اس معاملے میں میری جو رائے بنی ہے، اس کو یہاں درج کیا جاتا ہے۔ یا جوج اور ماجوج (Gog and Magog) کا معاملہ کوئی پُر اسرار معاملہ نہیں۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کو معلوم طریق استنباط کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔ یہاں میں اس معاملے میں فنی بحثوں سے قطع نظر کرتے ہوئے، صورتِ معاملہ کی ایک علمی تصویر پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ یا جوج اور ماجوج کا مصداق یا جوج اور ماجوج سے کون لوگ مراد ہیں، اس کے بارے میں اہل علم نے مختلف رائیں دی ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر اس معاملے میں مولانا انور شاہ کشمیری (وفات : 1934) کی رائے زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔ انھوں نے روس اور برطانیہ اور جرمنی کی قوموں کو اس کا مصداق ٹھیرا یا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے: أما الكلام في يأجوج ومأجوج، فاعلم أنهم من ذرية يافث باتفاق المؤرخين. ويقال لهم في أوربّأ: ’كاك ميكاك‘، وفي مقدمة ابن خلدون ’غوغ ماغوغ‘، وللبريطانية إقرار بأنهم من ذرية مأجوج، وكذلك ألمانيا أيضا منهم، وأما الروس فهم من ذرية يأجوج (فيض الباري علی صحيح البخاري، جلد 4، صفحہ (23) ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یا جوج اور ماجوج سے مراد وہ مغربی قو میں (western nations) ہیں جو یورپ میں آباد ہوئیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page