Al-Risala · January 2010 · page 20

We are already in Paradise

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۲۰

Yona Metzger Chief Rabbi of Israel Walter Kasper Cardinal, President of the Pontifical Council for Christian Unity, Holy See Ahmad Al-Tayyeb Rector of al-Azhar University, Egypt اس موقع پر پروفیسر احمد الطيب (ریکٹر، الازہر یونیورسٹی، قاہرہ) نے مسلم مقرر کی حیثیت سے عربی زبان میں خطاب کیا، جس کو ہیڈ فون کے ذریعے مختلف زبانوں میں سنا گیا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں اہل مغرب کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے ہر زمانے میں ان کے ساتھ اچھے سلوک کا معاملہ کیا ہے، لیکن اہل مغرب ابھی تک اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ انصاف کا معاملہ نہ کر سکے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ مذکورہ مسلم مقرر نے اپنی تقریر میں اس طرح کی متعدد منفی اور شکایتی باتیں کہیں، لیکن عجیب بات ہے کہ مسیحی حضرات نے ان باتوں کو خاموشی کے ساتھ سن لیا اور اس کے خلاف کسی قسم کے ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔

اس اجلاس کی صدارت ایک مسیحی خاتون (Hanna Suchoka) کر رہی تھیں۔ وہ پولینڈ کی طرف سے ویٹکن میں سفیر ہیں۔ انھوں نے پروفیسر احمد الطيب کی تقریر کے بعد اپنے مختصر ریمارک میں کہا کہ ہم پروفیسر صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں ہماری کمی کی طرف ہم کو توجہ دلائی۔ ہم ان کی تنقید کا استقبال کرتے ہیں۔

عجیب بات ہے کہ مسلم مقررین کو بین الاقوامی اسٹیج پر اظہار خیال کا موقع ملتا ہے، لیکن وہ اپنے منفی ذہن کی بنا پر اسلام کی صحیح نمائندگی نہیں کر پاتے۔ مثلاً ایک بار مجھے ایک عرب شیخ کو سننے کا موقع ملا۔ وہ ایک بین الاقوامی اسٹیج سے بول رہے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں، اسلام کی پالیسی کو بتاتے ہوئے قرآن کی اس آیت کا حوالہ دیا: فما استقاموا لكم فاستقيموا لهم (التوبة: 7) یعنی جب تک وہ تم سے سیدھے رہے رہیں، تم بھی اُن سے سیدھے رہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page