We are already in Paradise
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۲۱
عرب شیخ کا یہ حوالہ ایک غیر متعلق (irrelevant) حوالہ ہے۔ قرآن کی اس آیت میں جس مساویانہ سلوک کا ذکر کیا گیا ہے، وہ اُس صورتِ حال کے لیے ہے جب کہ مسلم سلطنت اور غیر مسلم سلطنت کے درمیان باقاعدہ جنگی حالت قائم ہو گئی ہو۔ جہاں تک عمومی زندگی کا تعلق ہے، اس کے لیے خُلقِ عظیم (القلم: 4) کا طریقہ مطلوب ہے، یعنی برتر اخلاقیات کا طریقہ۔ اِسی روش کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ: لا تکونو ا اُمّعۃ (الترمذی، کتاب البر)
افتتاحی اجلاس کے اِس موقع پر قرآن کا انگریزی ترجمہ بڑی تعداد میں لوگوں کو دیا گیا۔ جب ہمارے ساتھیوں نے لوگوں تک قرآن پہنچانے کا یہ کام شروع کیا تو وہاں بیٹھے ہوئے ایک بڑے مسیحی پادری نے ہماری ٹیم کی ایک ممبر سعدیہ کو ناراضگی کی نظر سے دیکھا۔ سعدیہ نے الفاظ میں ان کو کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ یہ کیا کہ پادری کے سامنے جاکر متواضعانہ انداز میں اپنا سر جھکاتے ہوئے کہا: Bless me, father!
اس کے بعد مذکورہ پادری کا لہجہ بالکل نرم پڑ گیا۔ انھوں نے کہا کہ ــــ او کے، او کے (Ok, Ok)۔ اس مثال سے دعوت کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ دعوت کے دوران اگر کسی سے کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اس کو ہرگز دلیل دینے کی کوشش مت کیجئے، بلکہ تواضع کا انداز اختیار کیجئے ۔ تواضع، دعوت کے بند راستے کو کھولتی ہے اور غیر متواضعانہ روش دعوت کے کھلے دروازے کو بند کر دیتی ہے۔ پولینڈ کے شہر کریکو میں ہونے والی اِس کانفرنس میں 22 پینل (panel) بنائے گئے تھے۔ ہر پینل الگ الگ موضوع پر تھا۔ ہمارے ساتھی اِن پروگراموں میں دعوتی لٹریچر لے کر جاتے۔ وہ وہاں لوگوں سے انٹرایکشن کر کے اُنھیں مطالعے کے لیے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر دیتے ۔ لوگ اس کو خوشی سے لیتے اور شکریہ ادا کرتے ۔ یہاں پینل کے موضوعات نقل کئے جا رہے ہیں: 1. Do Not Forget Auschwitz 2. Memory and Prophecy: The Legacy of John Paul II 3. 70 Years After World War II, War is not a Destiny 4. Europe's Mission in the World 20 Years After 1989 5. Latin America in a Globalized World
‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues