Al-Risala · May 2010 · page 16

تاریخ کا عظیم واقعہ

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۱۶

لا يدري أهلها متى تفجؤهم بولدها، ليلاً أو نهاراً (مسند احمد، جلد 1، صفحه 375)۔ یعنی ظہور یا جوج اور ماجوج کے وقت قیامت اتنی زیادہ قریب ہوگی، جیسے کوئی حاملہ جس کے حمل کی مدت پوری ہو چکی ہو، اُس کے اہل خانہ کو نہیں معلوم کہ کب اچانک اس کا وضع حمل ہو جائے، رات کو یادن کو۔ یا جوج اور ماجوج کا ظہور اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ دراصل تاریخ کے خاتمہ (end of history) سے پہلے عمل میں آنے والا آخری اتمامِ حجت کا معاملہ ہے۔ اُس زمانے میں ایسے اسباب اور حالات پیدا ہوں گے کہ حق کا اعلان اپنی آخری اور اعلیٰ ترین صورت میں انجام دیا جاسکے۔ گویا کہ یہ صورِ قیامت سے پہلے صورِ دعوت ہوگا۔ ایسی حالت میں دجالی فتنے کا ظہور اس بات کی علامت ہوگا کہ انسان نے آخری طور پر اس بات کا جواز (justification) کھو دیا ہے کہ موجودہ زمین پر اس کو مزید آباد رہنے کا موقع دیا جائے۔

تاریخ کا عظیم واقعہ

یا جوج اور ماجوج کے ذریعے جو واقعہ پیش آئے گا، وہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے تاریخ کا بہت بڑا واقعہ ہوگا۔ اس انقلاب کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوگا کہ فطرت (nature) بڑے پیمانے پر پرستش کے بجائے تسخیر کا موضوع بنے گی ۔ اس کے نتیجے میں زمین اپنے خزانے اُگل دے گی ۔ اس کے نتیجے میں وہ واقعہ پیش آئے گا جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لاتدخر الأرض من نباتها شيئاً إلّا أخرجته (ابن ماجه، کتاب الفتن) یعنی زمین اپنے اندر کی تمام پیداوار باہر نکال دے گی، وہ اُس میں سے کچھ بھی نہ چھوڑے گی۔

فطرت کے اندر چھپے ہوئے مادی رازوں کو دریافت کرنے کا یہ عمل مغربی سائنس دانوں کے ذریعے پیش آئے گا۔ یہ سائنس دال مکمل طور پر سیکولر سائنس داں ہوں گے۔ مذہب کے معاملے میں وہ پوری طرح غیر جانب دار (indifferent) ہوں گے۔ مذہب کے معاملے میں ان کا رویہ نہ مثبت رویہ ہوگا اور نہ منفی رویہ۔ تاہم فلاسفہ اور مفکرین ان کی تحقیقات کو اپنے اپنے مقصد کے لیے استعمال کریں گے۔ اس طرح اُن کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سیکولر مفکرین اور مذہبی مفکرین۔ دورِ سائنس کے ظہور کے بعد دنیا میں

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page