قربِ قیامت
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۱۵
ایک طرف شر کا پہلو ہوگا تو اسی کے ساتھ اُس میں خیر کا پہلو بھی لازماً شامل رہے گا۔ روایات کے مطابق، یا جوج اور ماجوج کے زمانے میں دواور بڑے واقعات پیش آئیں گے۔ ایک یہ کہ اُس زمانے میں دجال یا دجاجلہ (صحیح مسلم، کتاب الفتن) کا ظہور ہوگا۔ اور دوسری طرف اُسی زمانے میں ایک اور شخص کا ظہور ہوگا، جس کو صحیح مسلم کی ایک روایت میں رجلِ مؤمن کہا گیا ہے، اور حدیث کی دوسری کتابوں میں اس کو مہدی کہا گیا ہے۔
یا جوج اور ماجوج کے بارے میں قرآن میں: **حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ** **(الأنبياء : 96)** کا لفظ آیا ہے، یعنی جب یا جوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا۔ قرآن کے اس اسلوب میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ یا جوج اور ماجوج کا نکلنا خدا کے ایک عظیم منصوبہ کے تحت ہوگا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یا جوج اور ماجوج کی نسل کے درمیان فطرت کی حقیقتوں کو دریافت کرنے کی جو غیر معمولی اسپرٹ پیدا ہوئی، وہ پوری تاریخ میں کسی بھی انسانی گروہ کے اندر موجود نہ تھی۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ یا جوج اور ماجوج کی نسل اپنی بے پناہ کوشش کے ذریعے سائنسی اور صنعتی تہذیب کو وجود میں لائی۔ اس تہذیب کے نتیجے میں ایسے عظیم مواقع کھلے، جو اس سے پہلے تاریخ میں کبھی دیکھے نہیں گئے تھے۔ بعد کو دجال اور مہدی اور مسیح کی صورت میں جو کردار وجود میں آئیں گے، وہ انھیں مواقع کے استعمال کا نتیجہ ہوں گے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ دجال، ان جدید مواقع کا استعمال منفی انداز میں کرے گا، اور مہدی یا مسیح ان جدید مواقع کا استعمال مثبت انداز میں کریں گے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یا جوج اور ماجوج کے عمل ہی کا نتیجہ تھا کہ تاریخ میں پہلی بار تین چیزوں کا عظیم امکان پیدا ہوا ــــ ضلالتِ کبریٰ، معرفتِ کبریٰ اور دعوتِ کبریٰ۔
قربِ قیامت
قرآن اور حدیث کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ یا جوج اور ماجوج جب ظاہر ہوں گے تو یہ وہ وقت ہوگا، جب کہ قیامت بہت قریب آچکی ہوگی۔ ایک لمبی روایت جو ابن ماجہ اور مسند احمد میں آئی ہے، اُس میں یا جوج اور ماجوج کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے: **فإنّ الساعة كالحامل المتمّ التي**