Al-Risala · May 2010 · page 21

انسانی غذا

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۱

انسانی غذا

انسانی غذا کے معاملے میں موجودہ زمانے میں بے شمار تحقیقات ہوئی ہیں۔ ان تحقیقات کے نتیجے میں اُن گنت معلومات سامنے آئی ہیں، جو خالق کی معرفت کے امکان کو لا محدود حد تک بڑھا دیتی ہیں۔ اس معرفت کا ایک پہلو یہ ہے کہ کس طرح ایسا ہوا کہ انسان کی جو غذائی ضرورت ہے، وہ خارجی دنیا میں اپنی اعلیٰ تکمیلی صورت میں پیشگی طور پر بھر پور حالت میں موجود ہے۔ انسانی ضرورت اور خارجی غذا کے درمیان کامل مطابقت (compatibility) اپنے آپ میں، سوچنے والے کے لیے معرفت کا ایک سمندر ہے۔

قدیم زمانے میں غذا کا صرف ایک مفہوم تھا۔ بھوک کے وقت غذائی چیزوں کو کھا کر اپنا پیٹ بھر لینا ۔ یہ بھی بلاشبہ، شکر کا ایک ذریعہ تھا، لیکن موجودہ زمانے میں اس میں جو دریا فتیں ہوئیں ہیں، انھوں نے شکر کے معاملے میں پوائنٹ آف ریفرنس کو بہت زیادہ وسیع بنا دیا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق، غذا سادہ طور پر صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں ہے، وہ ہمارے جسم کی متنوع ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے۔ چناں چہ موجودہ زمانے میں غذا کو متوازن غذا (balanced diet) کہا جاتا ہے۔ متوازن غذا کا مطلب ہے وہ خوراک جو صحت کی متنوع ضرورت کے لیے متناسب اجزا پر مشتمل ہو: Balanced diet: A diet with the right amount, proportion, and variety of the foods needed for health. جدید تحقیق کے مطابق، متوازن غذا وہ ہے جس میں حسب ذیل اجزا شامل ہوں: A balanced diet is one which contains carbohydrate, protein, fat, vitamins, mineral salts, and fibre in the correct proportions. متوازن غذا کے بارے میں اس دریافت نے ہمارے احساسِ شکر کے لیے اتھاہ حد تک زیادہ بڑا پوائنٹ آف ریفرنس دے دیا۔ پچھلی معلومات کے تحت، انسان اگر حیوانی سطح پر غذا کی اہمیت کو جانتا تھا، تو اب جدید معلومات کے تحت وہ اس قابل ہو گیا کہ وہ اعلیٰ ترین انسانی سطح پر غذا کی اہمیت کو محسوس کر سکے۔ وہ آفاقی درجے میں شکر کا تحفہ اپنے خالق کی خدمت میں پیش کرے ۔ پوائنٹ آف ریفرنس میں یہ اضافہ صرف پہلی بار ممکن ہوا ہے۔ پچھلی صدیوں میں سائنس نے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page