Al-Risala · May 2010 · page 22

نطق اور سماعت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۲

ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔ اُس نے تاریخ میں پہلی بار فطرت (nature) میں چھپی ہوئی اُن حقیقتوں کو کھولا ہے، جن کو قرآن میں آیات اللہ(divine signs) کہا گیا ہے۔ ان سائنسی دریافتوں نے یہ کیا ہے کہ انعاماتِ الہی کے بارے میں انسان کے پوائنٹ آف ریفرنس کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ اس طرح، تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ انسان ہر چیز میں خدا کی نعمتوں کو انتہائی اعلیٰ درجے میں محسوس کرے اور شکرِ خداوندی کے بلند تر احساسات سے اس کا سینہ معمور ہو جائے۔ دورِ قدیم کے انسان کو اگر معرفت کا تجربہ ہوتا تھا، تو اب جدید دریافتوں کے بعد یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان زیادہ برتر سطح پر معرفتِ اعلیٰ کا تجربہ کر سکے۔

نطق اور سماعت

اسی طرح انسان ہمیشہ بولتا تھا اور اس کے بول کو دوسرا انسان سنتا تھا۔ قدیم انسان کے لیے یہ بظاہر ایک سادہ واقعہ تھا، مگر موجودہ زمانے میں، اس معاملے میں، بے شمارئی چیزیں دریافت ہوئی ہیں، جنھوں نے بولنے اور سننے کے معاملے کو ایک عظیم نعمت بنا دیا ہے، ایک ایسی نعمت جس کو سوچ کر آدمی کے سینے میں اس انوکھے عطیہ پر منعم حقیقی کے لیے شکر کا ایک سیلاب امنڈ پڑے۔ مثال کے طور پر الیکٹرسٹی (electricity) کو لیجیے۔ الیکٹری سٹی کی ایجاد نے بہت سے معاملات میں نئے نئے تجربات کو ممکن بنا دیا ہے۔ چناں چہ ایک سائنس داں نے تجربے کے دوران شیشے کے ایک فانوس کو لیا۔ اس نے اس کے منہ کو بند کیا اور اس کے اندر ایک برقی گھنٹی رکھی۔ پھر اس نے شیشے کے اندر کی ہوا کو پوری طرح نکال دیا۔ اس گھنٹی کا سوئچ باہر تھا۔ اب سوئچ کو دبایا گیا تو فانوس کے اندر گھنٹی کے بجنے کی صورت دکھائی دے رہی تھی، لیکن فانوس کے باہر گھنٹی کے بجنے کی آواز بالکل سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اس طرح کے تجربات کے ذریعے معلوم ہوا کہ ایک آدمی کے منہ سے نکلی ہوئی آواز کو جب دوسرا آدمی سنتا ہے، تو یہ ایک فطری ترسیل (transmission) کے ذریعے ہوتا ہے۔ منہ سے نکلی ہوئی آواز ہوا میں لہریں پیدا کرتی ہے۔ یہ لہریں سفر کر کے انسان کے کان تک پہنچتی ہیں، اور پھر انسان ان صوتی لہروں (sound waves) کو ناقابل فہم حد تک انتہائی پیچیدہ نظامِ سماعت کے ذریعے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page