Al-Risala · May 2010 · page 24

نفرت اور شکایت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۴

نفرت اور شکایت

یہ چند بالکل سادہ قسم کی مثالیں ہیں۔ اس طرح کی بے شمار باتیں جدید سائنسی دریافتوں کے ذریعے ہمارے علم میں آئی ہیں۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار اہل ایمان کے لیے یہ عظیم موقع کھلا کہ وہ فطرت کے انعامات کو زیادہ اعلیٰ درجے پر جانیں اور منعم کا اعتراف زیادہ گہرائی کے ساتھ کر سکیں۔ یہ گویا اہل ایمان کے لیے عظیم شکر کا ایک موقع تھا، مگر عین اُسی وقت شیطانی اغوانے اُن کے ذہن کو منفی سوچ کی طرف موڑ دیا۔ ساری مسلم دنیا شکایت اور نفرت اور تشدد کے جذبات کا شکار ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ اعلیٰ شکر اور اعلیٰ معرفت کے تجربے سے عملاً محروم ہو کر رہ گئے۔ یہ بلاشبہ شیطانی اغوا کا بہت بڑا واقعہ تھا، اس لیے اس کو حدیث میں دجالی کہا گیا ہے۔ یہ دجالی کس طرح ممکن ہوئی ۔ وہ اس طرح ممکن ہوئی کہ عین اُس زمانے میں جب کہ سائنس نے آیات الہی (divine signs) کو کھولا تھا، اُسی زمانے میں غیر مسلم قوموں نے جدید طاقتوں سے مسلح ہو کر مسلمانوں کو ہر شعبے میں مغلوب کر لیا۔ تعلیمی، اقتصادی اور سیاسی، ہر میدان میں مسلمان غیر مسلموں سے کچھڑ گئے۔ مسلمانوں کا یہ پچھڑاپن ان کی اپنی کوتاہی کے نتیجے میں تھا، لیکن دجّال نے جدید میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو بتایا کہ یہ دوسری قوموں کی سازش اور ظلم کے نتیجے میں ہوا ہے۔ اس دجّالی وسوسے کے نتیجے میں مسلمان ساری دنیا میں غیر مسلم قوموں کے خلاف نفرت اور تشدد میں مبتلا ہو گئے ۔ وہ جدید مواقع کا مثبت استعمال نہ کر سکے، نہ دعوت کے اعتبار سے اور نہ معرفت کے اعتبار سے۔ نفرت اور شکایت کا یہ ذہن بلاشبہہ دجالیت کے ذریعے پیدا ہوا۔ کیوں کہ یہ قومیں ہمارے لیے مدعو کا درجہ رکھتی تھیں، اور مدعو سے نفرت کرنا اسلام میں حرام ہے۔ دجال نے اس فعل حرام کو مزین کر کے اُمُ کو مسلمانوں کے لیے بظاہر عین اسلام بنا دیا۔ انٹرٹینمینٹ کلچر دجّال نے یہی کام ایک اور پہلو سے عام انسانوں کے ساتھ بھی کیا۔ سائنس نے جونئ دنیا دریافت کی تھی، اُمُ میں عام انسانوں کے لیے ہدایت کا عظیم امکان موجود تھا۔ اس کے ذریعے تاریخ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page