نفرت اور شکایت
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۵
میں پہلی بار یہ ممکن ہوا تھا کہ آدمی خالص علم انسانی کی سطح پر خدائی سچائی کو دریافت کرے۔ وہ اُس سے خدا کی معرفت کا اعلیٰ رزق لے سکے۔ وہ یہ سمجھے کہ اس دنیا میں وہ جن انعامات سے فائدہ اٹھارہا ہے، اُن کا ایک دینے والا ہے، اور پھر اُن انعامات کا اعتراف کر کے وہ مزید انعامات کا مستحق بنے۔ مگر عین اُسی وقت دجال متحرک ہوا، اور اْس نے انسان کو نئے نئے فلسفوں میں الجھا کر انٹرٹین مینٹ (entertainment) کے شیطانی کلچر میں مبتلا کر دیا۔ تمام انسان خواہشات کی فوری تکمیل کے فتنے میں مبتلا ہو گئے ۔ وہ بھول گئے کہ ہر انعام اپنے ساتھ لازمی زمے داریاں لاتا ہے۔ اِن زمے داریوں کی ادائیگی کے بغیر انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ ان انعامات سے فائدہ اٹھا سکے۔ ظہور دجّال کا زمانہ دجّال کے بارے میں حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ ان روایتوں میں دجال کی انوکھی صفات بتائی گئی ہیں۔ لوگ ان صفات کو لفظی معنی (literal sense) میں لے لیتے ہیں۔ اس لیے ابھی تک وہ دجّال کی شخصی آمد کے منتظر ہیں، حالاں کہ اس معاملے میں اب انتظار کا وقت نہیں، بلکہ دجال کے مقابلے میں اپنا کردار ادا کرنے کا وقت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ روایتوں میں دجال کی جو صفات بتائی گئی ہیں، وہ سب تمثیل کی زبان (symbolic language) میں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طویل روایت میں دجال کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: ینادی بصوت له يُسمع به ما بين الخافقين: إليّ أوليائي، إليّ أوليائي، إليّ أحبائي، إليّ أحبائي (کنز العُمّال، كتاب القيامة، باب الدّجال) یعنی دجّال اپنی ایک ایسی آواز سے پکارے گا جو مشرق اور مغرب کے دونوں سروں کے درمیان سنائی دے گی ۔ دجّال کہے گا کہ — اے میرے ساتھیو، میری طرف آؤ، اے میرے ساتھیو، میری طرف آؤ۔ اے میرے دوستو، میری طرف آؤ۔ اے میرے دوستو، میری طرف آؤ۔
یہ بلاشبہہ تمثیل کی زبان ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود دجال کی فطری آواز اتنی زیادہ بلند ہوگی کہ وہ براہِ راست طور پر پوری دنیا میں سنائی دے۔ یہ دراصل ایک پیشین گوئی تھی۔ اس کا