مذہب کا پولٹیکل انٹرپریٹیشن
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۳۰
امام نووی (وفات : 1277ء) نے اس حدیث کی شرح میں ایک اور روایت نقل کی ہے۔ اس سے مذکورہ نقطۂ نظر کی تائید ہوتی ہے۔ اس دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں : إِنّ أخوف ما أخاف على أمتى، الأئمّة المُضِلّون (صحيح مسلم بشرح النّووی، جلد 18، صفحہ 64) یعنی اپنی امت پر مجھے جس چیز کا سب سے زیادہ ڈر ہے، وہ امت کے گمراہ کرنے والے ائمہ (قائد) ہیں۔ امت کے ائمہ سے مراد یہاں استحصال پسند قائدین ہیں۔ یہ لوگ اپنی قیادت کو فروغ دینے کے لیے خوش نما الفاظ بولتے ہیں۔ وہ اپنے غیر دینی مقاصد کو دین کی اصطلاحوں میں بیان کرتے ہیں۔ اس سے دھوکا کھا کر بڑی تعداد میں لوگ ان کے گرد اکٹھا ہوجاتے ہیں۔ اس طریقے کو دوسرے لفظوں میں، مذہبی استحصال (religious exploitation) کہا جاسکتا ہے۔
مذہب کا پولٹیکل انٹرپریٹیشن
موجودہ دور میں جب پرنٹنگ پریس کا زمانہ آیا، تو کچھ لوگوں نے ایسی کتابیں لکھ کر دنیا میں پھیلانا شروع کردیں جن میں مذہب (اسلام) کا پولٹیکل انٹرپریٹیشن (political interpretation) دیا گیا تھا۔ مخصوص اسباب کی بنا پر یہ کتابیں لوگوں کے درمیان کثرت سے پھیلنے لگیں۔ اس لٹریچر سے متاثر ہونے والے لوگوں کا نشانہ، منحرفانہ طور پر، سیاسی انقلاب بن گیا۔ مذہب کی یہ سیاسی تعبیر ایک خطرناک مغالطہ پر قائم تھی۔ وہ مغالطہ یہ کہ مذہب ایک مکمل نظام کا نام ہے۔ مذہب کا مقصد صرف پوجا اور پرستش نہیں ہے، بلکہ اسی کے ساتھ لازمی طور پر یہ بھی ضروری ہے کہ مذہب کے دیوانی اور فوج داری قوانین کو زمین پر عملاً نافذ کیا جائے۔ چوں کہ قوانین کا نفاذ، حکومت پر قبضہ کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا، اس لیے ان تحریکوں کا نشانہ فوراً یہ بن گیا کہ حکم راں طبقے سے لڑکر وہ اُن سے اقتدار کو چھینیں، تا کہ سیاسی قوانین کا نفاذ ممکن ہوسکے۔ یہ مذہبی سیاست عملاً ایک عظیم نقصان کا سبب بن گئی۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ دعوت کا کام اعلیٰ سائنسی دلائل کی بنیاد پر جدید کمیونیکیشن کے ذریعے انجام دیا جائے اور ساری دنیا میں خدا کا پیغام زیادہ مؤثر انداز میں تمام لوگوں تک پہنچا دیا جائے، مگر یہ عظیم امکان واقعہ نہ بن سکا۔ کیوں کہ جنھیں یہ دعوتی کام کرنا تھا، وہ سیاسی ہنگامہ آرائیوں میں مشغول ہوگئے ــ موجودہ زمانے کے مسلمانوں