دجالیت، مذہبی استحصال کا فتنہ
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۹
شخصیت کے بننے یا نہ بننے کا انحصار ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنی خواہشات کو دبائیں، تو آپ کی شخصیت گھٹی ہوئی خواہشات (repressed desires) کا کیس بن جائے گی۔ آپ کی شخصیت میں ارتقاء (growth) کا عمل رک جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی ہر خواہش کو آزادانہ طور پر پورا کریں۔ اسی گم راہ کن نظریہ کے رواج کا نتیجہ ہے کہ آج ساری دنیا میں اباحیت (permissiveness) کا طریقہ رائج ہو گیا ہے، اور انسانی سماج خوش پوش حیوانوں کا ایک جنگل بن کر رہ گیا ہے۔ سگمنڈ فرائڈ اور اس قسم کے دوسرے مغربی مفکرین کے اس نظریے میں ایک بہت بڑا مغالطہ چھپا ہوا تھا۔ وہ یہ کہ انھوں نے انسانی شخصیت کے ارتقاء (personality development) کو خواہشات کی تکمیل سے جوڑ دیا، حالاں کہ اس کا تعلق انسان کے مائنڈ سے تھا۔ یہ دراصل انسان کا مائنڈ ہے جو شخصیت کے ارتقاء میں مددگار بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں خواہشات کی پیروی، ایک ڈسٹریكشن (distraction) کی حیثیت رکھتی ہے، وہ ذہنی ارتقاء کے عمل کو روکنے کا سبب بن جاتی ہے۔ دجالی فتنہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی نیا فتنہ نہیں۔ وہ شیطانی فتنے کی صورت میں ہمیشہ جاری رہا ہے۔ البتہ بعد کے دور میں صرف یہ ہوگا کہ یہ فتنہ ایک باقاعدہ تہذیب کی صورت اختیار کرلے گا۔ وہ ایک خوش نما کلچر کی صورت اختیار کر کے لوگوں کے درمیان ایک پسندیدہ چیز کے طور پر رائج ہو جائے گا۔ یہ جدید دریافتوں کے غلط استعمال کی ایک ایسی صورت ہوگی جس کے بعد برائی کا کوئی اور درجہ نہیں۔ موجودہ زمانہ اسی دجالی کلچر کا زمانہ ہے۔
دجالیت، مذہبی استحصال کا فتنہ
صحیح مسلم میں ایک روایت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غــیــر الـــدَّجَّــــال أخوفني عليكم (كتاب الفتن) یعنی مجھ کو تمھارے اوپر دجال سے بھی زیادہ غیر دجال کا اندیشہ ہے۔ اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ خارجی دجال سے زیادہ خطرناک تمھارے لیے داخلی دجال ہوگا۔ خارجی دجال کو پہچاننا تمھارے لیے آسان ہوگا، لیکن داخلی دجال کو تم اپناہی آدمی سمجھ لو گے اور اس بنا پر اس کو موقع ملے گا کہ وہ تم کو زیادہ سے زیادہ گم راہ کر سکے۔