Al-Risala · May 2010 · page 32

مکمل دین کا نظریہ

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۳۲

شرعی ذمہ داری بن جائے گی۔ اور اگر معاشرہ تیار نہ ہو، تو قوانین کا نفاذ عملاً التوا کے خانے میں رہے گا۔ مکمل دین کے نظریے میں یہ مغالطہ شامل ہے کہ اس میں دین کے حقیقی حصہ اور دین کے اضافی حصہ، دونوں کو ہر حال میں یکساں مطلوب کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ اسی سے تمام خرابیاں پیدا ہوئیں۔ حالاں کہ دین کے حقیقی حصے کی مطلوبیت اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہے، اور دین کے اجتماعی حصے کی مطلوبیت معاشرے کی حالت کے ساتھ مشروط ہے۔ افراد کے لیے وہی دین مکمل دین ہے، جس پر عمل کرنا، ان کی استطاعت کے مطابق، اُن سے مطلوب ہو۔

اسلام کا پوٹیکل انٹرپریٹیشن "مکمل اسلام" کے نفاذ کے نام پر کیا گیا، مگر عملی نتیجے کے اعتبار سے وہ اسلام سے مکمل انحراف کے ہم معنی بن گیا۔ یہ اسلام کی حقیقت کو درہم برہم (topsy-turvy) کرنے کا ایک معاملہ تھا۔ اس کے نتیجے میں جو خرابیاں پیش آئیں، اُن میں سے چند کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ اسلام کے پوٹیکل انٹرپریٹیشن کا پہلا نقصان یہ ہوا کہ اسلامی عمل کا اصل نشانہ بدل گیا۔ اصل نشانہ وہ ہے جس کو قرآن میں وابتغوا إليه الوسيلة (المائدة: 35) کہا گیا ہے، یعنی خدا کی قربت تلاش کرنا۔ مگر اس انٹرپریٹیشن میں اس کے برعکس، اسلام کا اصل نشانہ یہ بن گیا کہ رائج الوقت سیاسی سسٹم کو توڑو، تاکہ تم دنیا میں مکمل اسلام کو نافذ کر سکو۔

اس انٹرپریٹیشن کا دوسرا نقصان یہ تھا کہ اس میں اجتماعی تعلقات کی نوعیت مکمل طور پر بدل گئی۔ اسلام کے مطابق، مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان جو تعلق ہے، وہ داعی اور مدعو کا تعلق ہے، مگر پوٹیکل انٹرپریٹیشن نے اس کو بدل کر مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان سیاسی حریف کا تعلق قائم کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے انسان مسلمانوں کے لیے دعوتی خیر خواہی کا موضوع نہ رہے، بلکہ وہ ان کے سیاسی مدّ مقابل بن گئے۔ اس طرح عملاً دعوہ کلچر کے بجائے، ایک پوٹیکل کلچر وجود میں آگیا۔ پھر اسی پوٹیکل انٹرپریٹیشن کا یہ نتیجہ تھا کہ ساری دنیا میں اسلامی عمل، متشددانہ عمل کے ہم معنی بن گیا۔ اُن لوگوں نے اپنے کام کا آغاز پر امن کوشش کی صورت میں کیا، مگر جلد ہی اُن کو محسوس ہوا کہ پر امن کوشش کے ذریعے اقتدار کو بدلنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ اس لیے انھوں نے اپنے مقصد کے حصول کے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page