مکمل دین کا نظریہ
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۳۳
لیے تشدد کا طریقہ اختیار کر لیا، حتیٰ کہ انھوں نے اس معاملے میں خود کش بم باری کو بھی اپنے لیے جائز قرار دے دیا۔ اس طرح سیاسی انقلاب کا نظریہ عملاً سیاسی فساد کے ہم معنی بن گیا۔ اسلام کے پولیٹیکل انٹر پرٹیشن نے اُس سے متاثر لوگوں کو ایک ایسے کام میں مصروف کر دیا جو اسلام میں سرتا سر نا جائز تھا، یعنی قائم شدہ مسلم حکومت کے خلاف بغاوت۔ موجودہ زمانے میں ہر ملک میں ایسے مسلم لیڈر حکومت کر رہے تھے جنھوں نے ماڈرن ایجوکیشن حاصل کی تھی اور اس بنا پر اپنی نجی زندگی میں مذہبی ہونے کے باوجود، وہ سیاسی معاملات میں جدید طرزِ فکر کے حامل تھے۔ چناں چہ اس انٹر پرٹیشن کے حاملین نے یہ اعلان کر دیا کہ یہ لوگ ہمارے ملک میں مکمل اسلام نافذ نہیں کر رہے ہیں، اس لیے ہمارا فرض ہے کہ اُن سے لڑ کر اُن کو اقتدار سے ہٹائیں، اور ایسے لوگوں کو اقتدار پر قبضہ دلائیں جو ’’مکمل اسلام‘‘ کو نافذ کرنے والے ہوں۔
اس نظریے کے تحت یہ ہوا کہ خود مسلم ملک کے لوگ دو طبقوں میں بٹ گئے ـــ حاکم اور غیر حاکم۔ اور پھر مسلم عوام اپنے ملک کے حکم رانوں سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ مسلمانوں کا یہ فعل، فقہ کی اصطلاح میں خروج (revolt) کا فعل تھا، جو مبینہ طور پر اسلام میں حرام ہے۔ بیسویں صدی عیسوی، تقریباً پوری کی پوری، پولیٹیکل انٹر پرٹیشن سے پیدا ہونے والے ہنگاموں کی صدی تھی۔ یہ عین وہی زمانہ تھا، جب کہ سائنس کی دریافتوں نے، قرآن کے الفاظ میں، کائنات میں چھپی ہوئی آیات (signs) کو آخری حد تک کھول دیا تھا۔ اس وقت ضرورت تھی کہ سائنس کے دریافت کردہ حقائق کو لے کر دعوتِ حق کا کام اعلیٰ ترین سطح پر انجام دیا جائے ۔ مگر عین اسی وقت یہ ٹریجڈی پیش آئی کہ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلم قائدین، پولیٹیکل ہنگاموں میں مشغول ہو گئے، اور تبیین حق کا اعلیٰ ترین کام جو ہو سکتا تھا، وہ نہ کیا جا سکا۔ اس معاملے میں، مسلم قائدین کی سیاسی انتہا پسندی کا اندازہ ایک واقعے سے ہوتا ہے۔ سید جمال الدین افغانی (وفات: 1897) پیرس میں بیٹھ کر سیاسی ہنگاموں کی قیادت کر رہے تھے۔ 1884 کا واقعہ ہے، اُن کے شاگرد مفتی محمد عبدہ (وفات: 1905) نے اُن سے کہا کہ ہم سیاست کے