مہدی کی پہچان
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۴۱
معاملے کی اصولی وضاحت ایک خالص علمی مسئلہ ہے اور اس کو کوئی بھی ذی علم شخص اپنے علم کے مطابق، بیان کر سکتا ہے۔ اس کے بعد اہلِ علم کو یہ حق ہوگا کہ وہ علمی دلائل کی روشنی میں اس کے ردّ و قبول کا فیصلہ کریں۔ لیکن خود اپنے بارے میں مہدی یا مسیح ہونے کا دعویٰ کرنا، بالکل دوسری نوعیت کی چیز ہے اور اس دوسری چیز کا حق کسی کو حاصل نہیں۔
پیغمبر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ پیغمبر کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے مشن کا آغاز دعوے سے کرے، لیکن مہدی یا مسیح کے معاملے کی نوعیت یہ نہیں ہے۔ کون شخص مہدی تھا یا کس نے مسیح کا رول ادا کیا، اس کا تحقّق (ascertainment) صرف آخرت میں خدا کے اعلان کے ذریعے ہوگا۔ اس لیے دنیا میں اس قسم کا دعویٰ کرنا اپنے آپ میں ایک بے بنیاد دعویٰ (baseless claim) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس معاملے میں اصل چیز دعوے کا تحقّق ہے، اور موجودہ دنیا میں اس دعوے کے تحقّق کے لیے سرے سے کوئی ذریعہ موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مہدی اور مسیح کا معاملہ خود ساختہ تقرری (self-appointment) کا معاملہ نہیں ہے۔ جو شخص اس کو ذاتی تقرری کا معاملہ سمجھے، وہ یا تو جاہل ہوگا یا مجنون۔ مہدی اور مسیح ایک حدیث (سنن ابن ماجه، کتاب الفتن، باب : الصبر علی البلاء) کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی اور مسیح، دونوں ایک ہی شخصیت کے علامتی طور پر دو الگ الگ نام ہیں۔ آخری دور میں ظاہر ہونے والی ایک ہی شخصیت ہے، جس کو کسی روایت میں رجل مومن کہا گیا ہے، اور کسی روایت میں مہدی، اور کسی روایت میں مسیح ۔ ایک اعتبار سے، ظاہر ہونے والا شخص، امّت محمدی کا ایک فرد ہوگا، اس اعتبار سے اس کو رجل مومن کہا گیا۔ دوسرے اعتبار سے گم راہی کے عمومی اندھیرے میں ہدایت کی روشنی کو مکمل طور پر دریافت کرے گا، اس اعتبار سے اس کو مہدی کہا گیا ہے، یعنی ہدایت پایا ہوا شخص۔ ایک اور اعتبار سے وہ شخص امّت محمد کے آخری زمانے میں وہی رول ادا کرے گا، جو امّت یہود کے آخری زمانے میں حضرت مسیح نے انجام دیا تھا۔ گویا کہ یہ تینوں الفاظ ایک ہی شخصیت کے تین پہلوؤں کو بتاتے ہیں، نہ کہ الگ الگ تین شخصیتوں کو۔