Al-Risala · May 2010 · page 40

مہدی کی پہچان

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۴۰

ہے جو لوگوں کے لیے مہدی کو پہچاننے کے معاملے میں رکاوٹ بنے گی۔ وہ عالم گیر سیاسی انقلاب کو مہدی کی پہچان بنائے ہوئے ہیں، حالاں کہ حدیث میں دیے ہوئے لفظ کے مطابق، مہدی کی پہچان یہ ہے کہ وہ گم راہی کی تاریکی میں ہدایت کی روشنی پائے گا۔ وہ معرفتِ اعلیٰ کو دوبارہ دریافت کرے گا، جب کہ وہ مستور ہو چکی ہوگی۔ مہدی کا ظہور اصلاً دریافتِ ہدایت کا واقعہ ہے، نہ کہ نفاذِ ہدایت کا واقعہ۔ اعلانِ حق، نہ کہ دعوائے حق مہدی کا ظاہر ہ اعلانِ حق کا ظاہر ہ ہے، نہ کہ دعوائے حق کا ظاہر ہ۔ مہدی، یا رجل مومن اپنے کام کا آغاز دعوے سے نہیں کرے گا، یہ صرف اُس کے کام کی استثنائی نوعیت ہوگی جس سے لوگوں کے لیے اس کو پہچاننا ممکن ہو سکے گا۔ اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہوگا کہ مہدی کے معاملے کو خدا کی نسبت سے دیکھا جائے ۔ خدا کے نزدیک، اصل بات یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ مہدی ہے۔ خدا کے نزدیک، اس معاملے میں دعویٰ مکمل طور پر ایک غیر متعلق (irrelevant) بیان کی حیثیت رکھتا ہے۔ خدا کے نزدیک، اصل قابلِ لحاظ بات دوسروں کی نسبت سے ہے، نہ کہ خود مہدی کی نسبت سے۔ یہ دوسروں کا امتحان ہے کہ وہ اپنے وقت کے اُس رجلِ مومن کو پہچانیں، جس کو حدیث میں مہدی کہا گیا ہے، اور پھر وہ بھر پور طور پر اس کا ساتھ دے کر اس کو یہ موقع دیں کہ وہ اپنے مطلوب رول کو ادا کر سکے۔

احادیثِ مہدی یا مسیح اور اس طرح کے دوسرے نصوص، دراصل ایک عظیم دعوتی امکان کو بتا رہے ہیں، نہ کہ شخصی طور پر کسی فرد یا افراد کی پر اسرار فضیلت کو۔ یہ صرف خدا ہی کو معلوم ہے کہ اس کی توفیق خاص سے، اس رول کی ادائیگی کس کے حصے میں آئے گی۔ میرے نزدیک، اس معاملے میں ” آنے والے“ کا انتظار، یا خود اپنے بارے میں مہدی یا مسیح ہونے کا دعویٰ کرنا، دونوں ہی یکساں طور پر غلط ہیں: Waiting for a “coming person”, or claiming “I am that person”, both are equally wrong. یہاں اس معاملے کی وضاحت ضروری ہے کہ مہدی اور مسیح کے مسئلے کو اصولی طور پر بیان کرنا ایک الگ چیز ہے اور خود اپنے بارے میں مہدی اور مسیح ہونے کا دعویٰ کرنا بالکل دوسری چیز۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page