Al-Risala · May 2010 · page 43

سائنسی انقلاب کے دو پہلو

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۴۳

کے ٹوٹنے کے بعد یہ نظریہ ختم ہو گیا۔ اب معلوم ہوا کہ ایٹم کے ماورا بھی کچھ ایسی حقیقتیں ہیں جو مشاہدے میں نہیں آتیں، اگرچہ وہ اپنا وجود رکھتی ہیں ۔ ان حقیقتوں کو صرف ان کے اثر (effect) کے ذریعہ جانا جا سکتا ہے۔ اس طرح بالواسطہ استدلال (inferential argument) کا طریقہ رائج ہوا۔ علمی حلقے میں یہ مان لیا گیا کہ بالواسطہ استدلال یا استنباط (inference) بھی اتنا ہی معقول استدلال (valid argument) ہے، جتنا کہ براہ راست استدلال (direct argument)۔

اس واقعے کا ایک زبردست الہیاتی پہلو تھا۔ قدیم زمانے کے فلاسفہ اور متکلمین، خدا کے وجود پر جو استدلال قائم کرتے تھے، وہ تمام تر بالواسطہ استدلال ہوا کرتا تھا۔ مثلاً وہ استدلال جس کو ڈیزائن سے استدلال (argument from design) کہا جاتا ہے۔ اس طرزِ استدلال کو منکرینِ خدا نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ کوئی سائنٹفک استدلال نہیں۔ مگر اب جب کہ خود سائنس میں جوہری انشقاق کے بعد یہ مان لیا گیا کہ استنباطی استدلال (inferential argument) بھی علمی اعتبار سے ایک معقول استدلال ہے، تو علم الہیات (theology) ایک نئے دور میں داخل ہو گیا، یعنی ایک ایسے دور میں جب کہ الہیاتی استدلال بھی عقلی طور پر اتنا ہی قابلِ قبول ہے، جتنا کہ معروف سائنسی استدلال۔ اخوانِ رسول دورِ آخر میں مہدی، یا مسیح جو کارنامہ انجام دیں گے، وہ کوئی پر اسرار قسم کا شخصی کارنامہ نہیں ہوگا۔ وہ اُسی طرح اسباب وعلل کے تحت پیش آئے گا، جیسا کہ پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں پیش آیا۔ مثلاً پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلّمہ طور پر ایک عظیم کارنامہ انجام دیا۔ یہ کارنامہ انجام دینے کے لیے خدا نے آپ کو مضبوط افراد کی ایک ٹیم دی، جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مہدی، یا مسیح جو کارنامہ انجام دیں گے، اُنھیں بھی خدا کی خصوصی مدد کے ذریعے ایک طاقت ور ٹیم حاصل ہوگی۔ غالباً یہی وہ ٹیم ہے جس کو حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وددتُ أنّا قد رأينا إخواننا۔ قالوا : أو لسنا إخوانك يا رسول الله۔ قال : أنتم أصحابى، وإخواننا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page