Al-Risala · May 2010 · page 44

سائنسی انقلاب کے دو پہلو

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۴۴

اور التعجيل فی الوضوء) یعنی میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنے اخوان کو دیکھیں ۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو۔ ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے، وہ آئندہ آئیں گے۔

اصحاب رسول اور اخوان رسول کا معاملہ کوئی پُراسرار معاملہ نہیں۔ ان دونوں گروہوں کی نوعیت کو قرآن اور حدیث کے مطالعے سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اصحاب رسول کی نوعیت، قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں : محمد رسولُ الله والذين معه (الفتح: 29)۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسول کو جو اعلیٰ ایمانی درجہ ملا، اس کا راز کیا تھا۔ اس اعلیٰ ایمانی درجے کے حصول کا راز، قرآن کے الفاظ میں، معیت رسول تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور معیت سے فیض یاب ہو کر وہ اصحاب رسول اور خیر امت (آل عمران: 110) بنے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اخوان رسول کا معاملہ بھی قرآن میں مذکور ہے۔ اخوان رسول کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 41 میں بالواسطہ طور پر موجود ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: "آئندہ ہم اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر کامل طور پر یہ ظاہر ہو جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے" (حم السجدة: 53)۔

قرآن کی اس آیت میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی کہ ایک زمانہ آئے گا، جب کہ نیچر میں چھپی ہوئی صداقت اسلام کی نشانیاں ظاہر ہوں گی ، اور وہ طالبان حق کے لیے اعلیٰ معرفت کا ذریعہ بنیں گی۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اس دور سے مراد موجودہ سائنسی دور ہے۔ موجودہ سائنسی دور میں عالم فطرت کے ایسے حقائق انسان کے علم میں آئے ہیں جو بلا شبہ معرفتِ اعلیٰ کا ذریعہ ہیں۔ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے غالباً یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اخوان رسول وہ اہل ایمان ہیں جو سائنسی دور میں پیدا ہوں گے، اور سائنسی دریافتوں سے ذہنی غذا لے کر اعلیٰ معرفت کا درجہ حاصل کریں گے، نیز یہی وہ لوگ ہوں گے جو مہدی، یا مسیح کا ساتھ دے کر آخری زمانے میں اعلیٰ دعوتی کارنامہ انجام دیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page