حدیث میں آئی ہوئی پیشین گوئیاں
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۶۲
کے داخلے سے مراد امکانی داخلہ (potential entry) ہے، نہ کہ واقعی داخلہ (actual entry)۔ اور امکانی داخلے کے اعتبار سے بلاشبہ، اسلام کا کلمہ ہر گھر میں داخل ہو چکا ہے۔ خلاصہ مذہب کی تاریخ بتاتی ہے کہ خدا نے جب انسان کو پیدا کیا تو شروع ہی سے انسان کی رہ نمائی کے لیے دنیا میں پیغمبر آتے رہے۔ پیغمبروں کا دور، وہ دور ہے جب کہ وحی (revelation) کی سطح پر حقیقت کا علم دیا جاتا رہا۔ یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ جدید سائنسی انقلاب آیا۔ اب یہ ہوا کہ جو حقیقت پہلے وحی کی سطح پر بیان کی جا رہی تھی، وہ خود علم انسانی کی سطح پر آخری حد تک مُبرہن حقیقت (proved fact) بن گئی۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ الہامی کتاب (قرآن)، اور انسانی علم دونوں کے اعتبار سے مشترک طور پر مسلّمہ بنیاد (mutually accepted ground) فراہم ہوئی ہے، جس نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ سچائی کی یقینی معرفت حاصل کی جاسکے۔ اس کے بعد معرفتِ حق کا کوئی اور درجہ باقی نہیں۔ اس کے بعد جو ہونے والا ہے، وہ صرف یہ کہ قیامت واقع ہو، اور خداوند ذوالجلال براہِ راست طور پر انسان کے سامنے آجائے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ تمام انسان جاگ اٹھیں۔ جو لوگ اب بھی نہ جاگیں، ان کو قیامت کا بھونچال جگائے گا، مگر اُس وقت کا جاگنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔
نوٹ: زیر نظر مقالہ دو سال پہلے تیار کیا گیا تھا۔ اس درمیان میں اس مقالے کو بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو برائے مطالعہ دیا گیا، انڈیا کے اندر بھی اور انڈیا کے باہر بھی۔ خاص طور پر انڈیا کے تقریباً تمام بڑے تعلیمی اداروں سے منسلک افراد کو اسے پڑھنے کے لیے دیا گیا۔ اس کو پڑھنے کے بعد تمام اہلِ علم نے اس سے بنیادی طور پر اتفاق کیا، کسی بھی عالم کی طرف سے کوئی قابلِ ذکر اختلاف سامنے نہیں آیا۔ اس طرح کے دوسال گزارنے کے بعد اب الرسالہ میں اس کو شائع کیا جا رہا ہے۔ (25 مارچ 2010)