Al-Risala · May 2010 · page 61

حدیث میں آئی ہوئی پیشین گوئیاں

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۶۱

سے ملیں گے جو تکرار لسان کے طور پر اللہ کا نام لیں، مگر اللہ کے نزدیک ایسے لوگوں کی کوئی قیمت نہیں، اور جہاں تک حقیقی معنوں میں اللہ کو یاد کرنے کا سوال ہے، ساری زمین پر بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جو اس معاملے میں مطلوب معیار پر پورے اتریں۔

اس کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ پرنٹنگ پریس اور اسٹیج کے دور کے آنے کے بعد مسلمان بڑی بڑی سرگرمیاں کر رہے ہیں، مگر حقیقی معنوں میں خدا کا چرچا کرنے والے لوگ کہیں نظر نہیں آتے۔ لوگ اپنے قومی فخر میں جی رہے ہیں، نہ کہ خدا کی عظمت میں۔ خدا کی حقیقی عظمت کا ذکر ان کی تقریروں اور تحریروں اور ان کے اداروں میں کہیں نظر نہیں آتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے اپنی قومی عظمت کو تو ضرور دریافت کیا، لیکن وہ خدا کی عظمت کو دریافت نہ کر سکے۔ ایسی حالت میں یہ ایک فطری بات ہے کہ ان کی زندگیاں خدا کی حقیقی عظمت کے چرچے سے خالی نظر آئیں۔

7- قربِ قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت حدیث میں یہ بتائی گئی ہے کہ اُس زمانے میں اسلام کا کلمہ دنیا کے ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں داخل ہو جائے گا (لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر، ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام)۔ اس سلسلے میں مزید یہ الفاظ آئے ہیں: بعزّ عزيز، وذُلّ ذليل (مسند احمد، جلد 6، صفحہ 4)۔ یعنی عزت والے کو عزت کے ساتھ اور ذلت والے کو ذلت کے ساتھ۔ اس سے مراد کسی قسم کی سیاسی طاقت نہیں ہے۔ یہ ایک اسلوبِ کلام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ؀خواہی نہ خواہی (willingly or unwillingly) یعنی کوئی شخص چاہے یا نہ چاہے، اسلام کا کلمہ بہرحال اس کے گھر میں داخل ہو جائے گا۔

یہ واقعہ کس طرح ہوگا۔ کمپیوٹر ایج (computer age) نے اس بات کو پوری طرح قابل فہم بنا دیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ عملاً ہر گھر میں اور ہر آفس میں کمپیوٹر داخل ہو گیا ہے۔ انٹرنیٹ اور ویب سائٹ پر تمام اسلامی معلومات بھری جا رہی ہیں۔ اب دنیا کے کسی بھی مقام پر اور کسی بھی آفس یا گھر میں ایک شخص اپنے کمپیوٹر کے ذریعے، اسلام کے بارے میں پوری معلومات خود اپنی زبان میں حاصل کر سکتا ہے۔ اس معاملے پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آتا ہے کہ ہر گھر میں کلمۂ اسلام

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page