We are already in Paradise
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۲۵
ریکارڈ کیا۔ انٹرویو ر کا نام مسٹر اسٹیفینو (Stefano Leszczynsti) تھا۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ آپ کا مشن کیا ہے۔ میں نے بتایا کہ ہمارا مشن پیس اور اسپرچوئلٹی کو فروغ دینا ہے اور اسلام کی مثبت تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانا اور اسلام کے بارے میں لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ یورپ میں اسلام کی جو منفی تصویر بن گئی ہے، وہ کس طرح درست کی جائے۔ میں نے کہا کہ ہم اس پہلو سے مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ ہم لوگوں کو یہ بتائیں کہ آپ اسلام اور مسلمانوں میں فرق کریں۔ آپ مسلمانوں کے کسی عمل کو لے کر اسلام کے بارے میں رائے قائم نہ کریں، بلکہ براہ راست قرآن اور حدیث کی روشنی میں اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں:
You have to differentiate between Islam and Muslims, you have to judge Muslims in the light of Islamic teachings and not vice versa. اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، یکم اگست 2009 کو پاکستانی پنجاب کے شہر گوجرہ میں ’’قرآن کی بے حرمتی‘‘ کے نام پر وہاں کے مشتعل گروہ نے ایک مسیحی آبادی پر حملہ کر دیا۔ اس موقع پر مسیحیوں کے تقریباً 40 گھر نذر آتش کر دیئے گئے تھے جس میں کئی مسیحی افراد ہلاک ہو گئے۔ ویٹکن آ رک بشپ آف کینٹر بری اور ورلڈ کونسل آف چرچز (WCC) نے ان واقعات کی مذمت کی تھی۔
میں نے کہا کہ ’’قرآن کی بے حرمتی‘‘ کے نام پر اس طرح کا کام بلاشبہ ایک مجرمانہ کام ہے، وہ کوئی دینی کام نہیں۔ قرآن اور حدیث میں کہیں یہ تعلیم نہیں دی گئی ہے کہ جو لوگ بظاہر قرآن کی بے حرمتی کریں، ان کو مارو اور ان کے گھروں کو جلاؤ۔ قرآن اور حدیث میں اگر کسی کام کو قابلِ سزا قرار دیا گیا ہو، تب بھی یہ سزا ایک باضابطہ عدالت دے سکتی ہے۔ عوام کو کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔ جو لوگ ایسا کریں، وہ فساد برپا کرنے والے لوگ ہیں، نہ کہ اسلام کو ماننے والے لوگ۔
دوسری بات یہ کہ اس طرح کے واقعات کے اصل ذمے دار عوام نہیں، بلکہ علماء ہیں۔ علماء نے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues