Al-Risala · January 2010 · page 26

We are already in Paradise

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۲۶

مسلسل ایسا کیا ہے کہ وہ’’ قرآن کی بے حرمتی‘‘ اور’’ رسول کی گستاخی‘‘ جیسے موضوعات پر جذباتی تقریر کر کے یا جذباتی تحریریں شائع کر کے لوگوں کو مشتعل کر رکھا ہے۔ یہی اشتعال مذکورہ قسم کے واقعات کی شکل میں ظاہر ہوتاہے۔ علماء کی دوسری غلطی یہ ہے کہ وہ اس قسم کے مسلمانوں کو کھلے طور پرکنڈم نہیں کرتے، وہ ان کا ہاتھ نہیں پکڑتے۔ یہی وہ علماء ہیں جن کو حدیث میں علماء سوء کہا گیا ہے۔ انٹرویو کا ایک سوال یہ تھا کہ انڈیا میں فرقہ وارانہ ذہنیت کی موجودگی میں ڈائلاگ کس طرح ممکن ہے۔ اس کے جواب میں بتایا گیا کہ اختلافات فطری ہیں۔ اصل مسئلہ اختلاف کا ہونا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اختلاف کے بارے میں رواداری (tolerance) کا ذہن لوگوں کے اندر موجود نہیں۔ میں نے کہا کہ یورپ میں بھی اس طرح کے اختلافات ہیں، لیکن وہاں اختلافات سنگین مسئلہ نہیں بنتے، کیوں کہ وہاں ڈائلاگ کلچر ہے، جب کہ انڈیا میں ڈیبیٹ کلچر (debate culture) ہے۔ میں اور میرے ساتھی یہ کوشش کر رہے ہیں کہ انڈیا میں بھی لوگوں کے درمیان ڈائلاگ کلچر آجائے۔ انٹرویو کے دوران ایک بات یہ کہی گئی کہ اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسلم کمیونٹی کے افراد خود اپنی کمیونٹی کی غلطیوں کے خلاف بولیں، اور ہندو کمیونٹی کے افراد ہندو کمیونٹی کے غلطی پر تنقید کریں۔ مسلمان اگر ہندو کمیونٹی کے خلاف بولیں یا ہندو، مسلم کمیونٹی کے خلاف بولیں تو اصلاح کے نقطہ نظر سے اس کا کوئی فائدہ نہیں۔

میں نے ایک بات یہ کہی کہ سیاسی اعتبار سے ویٹکن میں مسلمانوں کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ موجود ہے۔ انیسویں صدی عیسوی میں پوپ اور اسٹیٹ کے درمیان وہی مسئلہ پیدا ہوا جو ترکی میں خلیفہ اور سیکولر گورنمنٹ کے درمیان پیدا ہوا۔ پوپ نے دانش مندی سے کام لیتے ہوئے ٹکراؤ کو ختم کر دیا اور اُس حکیمانہ فارمولے کو اختیار کیا جس کو کم پر راضی ہونا کہا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ویٹکن کے نام سے ان کی ایک چھوٹی سی ریاست قائم ہوگئی اور اس طرح پوپ کا تاریخی ٹائٹل باقی رہا۔ اس کے برعکس، ترکی کے معاملے میں یہ ہوا کہ ساری دنیا کے علماء اور غیر علماء خلافت کو اس کی مکمل صورت میں باقی رکھنے پر اصرار کرتے رہے۔ اس کا اندوہ ناک انجام یہ ہوا کہ’’ خلیفہ ‘‘کا تاریخی ٹائٹل

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page