Al-Risala · June 2010 · page 5

قانونِ التباس

الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۵

اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا آزمائش (test) کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس بنا پر یہاں حقیقتوں کو دو اور دو چار کی طرح نہیں کھولا گیا ہے۔ یہاں ہر حقیقت کے ساتھ شبہ کا عنصر (element of doubt) موجود ہے۔ یہ اصول پیغمبر کے زمانے میں بھی تھا اور وہ آئندہ بھی قیامت تک باقی رہے گا۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے دجال اور مہدی اور مسیح کا ظہور ہوگا۔ لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ دجال اور مہدی اور مسیح کا معاملہ مذکورہ قانون عام سے مستثنیٰ نہیں۔ اس قانون عام کے مطابق، ایسا ہر گز نہیں ہوگا کہ دجال اور مہدی اور مسیح کا ظہور اس طرح برہنہ انداز میں ہو کہ لوگ کسی شبہ یا کسی مغالطہ کے بغیر اُن کو جان لیں اور فوراً اُن کے معاملے میں اپنے مطلوب رویتے کو اختیار کر لیں۔ دجال اور مہدی اور مسیح کے ساتھ یقینی طور پر اُسی طرح شبہ کا عنصر موجود رہے گا، جس طرح وہ اس سے پہلے پیغمبروں کے ساتھ موجود تھا۔

حدیث میں بیان کردہ علامتیں بتاتی ہیں کہ قیامت اب بہت قریب ہے۔ اس اعتبار سے غالباً یہ کہنا درست ہوگا کہ دجال اور مہدی اور مسیح کا ظہور ہو چکا ہے۔

ضرورت ہے کہ لوگ اس معاملے میں کامل سنجیدگی کے ساتھ متجسس (curious) بنیں اور اپنے ایمانی تقاضوں کو پورا کریں، تاکہ ایسا نہ ہو کہ تاریخ کا کاؤنٹ ڈاؤن (countdown) اپنی آخری گنتی پر پہنچ جائے اور فرشتہ اسرافیل قیامت کا صور پھونک دے۔ جب ایسا ہوگا تو اس کے بعد کسی کے لیے نہ توبہ کا وقت ہوگا اور نہ اعتراف کا۔ صور اسرافیل سے پہلے تمام حقیقتیں شبہ کے پردے میں ہیں، صور اسرافیل اس پردے کو پھاڑ دے گا اور اس کے بعد تمام حقیقتیں عیا نأ سامنے آ جائیں گی۔

کہانیاں قرآن سے Kahaniyan Quran Se Zee Salaam Saturday 8.30 pm, Sunday 9.30 am Monday 4.00 pm, Friday 3.00 am (Zee Salaam is available on Dish TV and DTH, channel no. 786)

‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues

Printed page