Al-Risala · June 2010 · page 6

ظلم کیا ہے

الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۶

ظلم کیا ہے

قرآن کی سورہ نمبر 31 میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا سب سے بڑا ظلم ہے (لقمان: 13)۔ لغوی اعتبار سے ظلم کا مطلب ہے: وضع الشيئ فى غير موضعه (المفردات للراغب الأصفهانی) یعنی کسی چیز کو اس کے اصل مقام کے علاوہ کسی اور مقام پر رکھنا۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر فطری طور پر انتہائی طاقت ور جذ بہ رکھا گیا ہے۔ استجاب (awe) کا جذبہ، اور رحم (mercy) کا جذبہ۔ صحیح یہ ہے کہ ان دونوں قسم کے جذبات کو اس کے اصل مقام پر رکھا جائے ۔ کسی اور چیز کو ان جذبات کا مرکز نہ بنایا جائے۔ استجاب کے جذبے کا صحیح استعمال یہ ہے کہ اس کو صرف اللہ واحد کے ساتھ وابستہ کیا جائے۔ اسی کا نام توحید ہے۔ اس جذبے کا مرکز کسی غیر اللہ کو بنانا شرک ہے، اور شرک ایک ناقابل معافی جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ گویا کہ شرک نام ہے ایک صحیح جذبے کے غلط استعمال کا:

Wrong association of right sentiment.

یہی معاملہ جذبۂ رحم کا بھی ہے۔ انسان کے اندر گہرا جذبۂ رحم دعوتی مقصد سے رکھا گیا ہے، یعنی آخرت کے عذاب سے انسان کو بچانے کی کوشش کرنا۔ موجودہ زمانے میں سوشل ورک بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ یہ سوشل ورک کیا ہے۔ یہ سوشل ورک انسان کو دنیوی تکلیف worldly (suffering سے بچانے کا نام ہے۔ یہ رحم کے فطری جذبے کو دنیا کی طرف موڑ دیتا ہے۔ انسان کے اندر رحم کا شدید جذبہ اس لیے رکھا گیا ہے تا کہ وہ لوگوں کو آخرت کی تکلیف other worldly (suffering سے بچانے کی کوشش کرے، لیکن موجودہ زمانے میں رحم کے فطری جذبے کو صرف دنیوی تکلیف (this worldly suffering) کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ ضرورت مند کی بقدر ضرورت مدد کرنا بھی بلا شبہ ایک قابل اجر کام ہے۔ لیکن مدر ٹریسا کی طرح اس کو اپنا مشن بنانا، ایک بالکل مختلف چیز ہے۔ حاجت مندی کی حاجت براری ایک مطلوب کام ہے، لیکن اس کو زندگی کا واحد مشن بنالینا کوئی مطلوب کا م نہیں۔ مومن کا اصل مشن دعوہ ورک ہے، نہ کہ سوشل ورک۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues

Printed page