Al-Risala · June 2010 · page 10

جب قیامت قریب آجائے گی

الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۱۰

جب قیامت قریب آجائے گی

قیامت سے پہلے آخری زمانے میں ایک دور آئے گا جس کو حدیث میں فتنۂ دہیماء کہا گیا ہے۔ فتنہ دہیماء سے مراد: الفتنة السوداء المظلمة ہے، یعنی مکمل تاریکی کا فتنہ۔ دوسرے لفظوں میں اس کو فکری تاریکی (intellectual darkness) کہا جاسکتا ہے۔ فتنہ دہیماء سے مراد قیامت سے پہلے کا وہ زمانہ ہے جب کہ اشاعتی ذرائع کی کثرت کے نتیجے میں مختلف قسم سے افکار کا جنگل اتنا زیادہ بڑھ جائے گا کہ لوگ فکری کنفیوژن میں جینے لگیں گے۔

اس نازک دور میں اللہ کی سنت کے مطابق ، کسی بندۂ خدا کے ذریعے کامل سچائی ظاہر ہوگی۔ بہت سے لوگ جو اس کامل سچائی کو دلائل کی روشنی میں جانچیں گے، وہ نظری طور پر جان لیں گے کہ یہی خدائی سچائی ہے۔ لیکن خدائی سچائی ہمیشہ انسانوں میں سے کسی انسان کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے نظری اعتراف کے باوجود اُس میں شبہہ کا ایک عنصر (element of doubt) ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ یہ صورت حال اہل ایمان کے لیے ایک نازک امتحان کا سبب بن جاتی ہے۔

اس صورت حال میں اہل ایمان کے لیے بظاہر دو موقف ہوتے ہیں — ایک، یہ کہ وہ نظری اعتراف کے باوجود عملی طور پر غیر جانب داری (indifference) کا رویہ اختیار کر لیں۔ دوسرا، یہ کہ وہ اجتہاد کریں اور اپنے اجتہاد کے مطابق، جو سچائی ظاہر ہوئی ہے، بھر پور طور پر وہ اس کے ساتھی بن جائیں۔ خالص شرعی اعتبار سے، پہلا موقف اختیار کرنا کسی کے لیے جائز نہیں۔ اس طرح کی صورت حال میں غیر جانب داری کا موقف ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے، یقینی طور پر وہ کوئی جائز موقف نہیں۔ اس طرح کی صورت حال میں درست موقف یہی ہے کہ اہل ایمان اجتہاد کرتے ہوئے شبہہ کے پردے کو پھاڑیں اور دوڑ کر سچائی کا ساتھ دیں۔ یہ وہ موقع ہے جب کہ اجتہاد فرض ہو جاتا ہے۔ اگر آدمی کا اجتہاد درست تھا تو حدیث کے مطابق، اُس کو اللہ تعالیٰ کے یہاں دوہرا اجر ملے گا۔ اور اگر بالفرض اُس نے اجتہادی خطا کی ہے، تب بھی اس کے لیے ایک اجر کی بشارت ہے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues

Printed page