Al-Risala · June 2010 · page 11

جب قیامت قریب آجائے گی

الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۱۱

(صحیح البخاری، کتاب الاعتصام، باب اجر الحاکم)۔ اجتہادی خطا پر بھی اجر کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے موقع پر غیر جانب دارانہ رویہ سرے سے جائز ہی نہیں۔ ایسے موقع پر آدمی کو ہر حال میں اجتہادی فیصلہ کرنا ہے، خواہ اس کے لیے اجتہادی خطا کا رسک (risk) کیوں نہ موجود ہو۔ اس سلسلے میں ایک متعلق روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: إذا اقترب الزّمان لم تكد رؤيا المؤمن تكذب (کتاب التعبیر، باب القید فی المنام) یعنی جب (قیامت کا) زمانہ قریب آئے تو مومن کا خواب جھوٹا خواب نہیں ہوگا۔ اس حدیث کی شرح میں ابن حجر العسقلانی نے لکھا ہے کہ :إن المراد بالزمان المذكور زمان المهدى (فتح الباری 12/223) یعنی اس روایت میں جس زمانے کا ذکر ہے، اُس سے مراد مہدی کا زمانہ ہے۔ اسی طرح سنن الترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی میں اس روایت کے تحت یہ الفاظ درج ہیں: قالوا : يريد به زمن خروج المهدى (6/56) یعنی علماء نے کہا ہے کہ اس زمانے سے مراد مہدی کے خروج کا زمانہ ہے۔

اصل یہ ہے کہ مہدی کا زمانہ فتنہ دہیماء کا زمانہ ہوگا۔ اُس زمانے میں افکار کی کثرت کے نتیجے میں حقائق مشتبہ ہو جائیں گے۔ تمام لوگ فکری کنفیوژن میں جینے لگیں گے۔ ایسی حالت میں مہدی کے ظہور کے باوجود لوگوں کے لیے مہدی پر یقین کرنا مشکل ہو جائے گا۔ لوگ دیکھیں گے کہ مہدی جو بات کہہ رہا ہے، وہ پوری طرح مبنی بر حق ہے۔ لیکن مہدی عام انسان جیسا ایک انسان ہوگا، اس بنا پر لوگوں کے لیے شبہ کا ایک عنصر باقی رہے گا۔

اُس وقت اللہ تعالیٰ کی خصوصی تائید رؤیا صادقہ (سچے خواب) کی شکل میں ظاہر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق، جن لوگوں کے اندر سچی تلاش کا جذبہ ہوگا، اُن کو مہدی کی نسبت سے تائیدی خواب دکھائے جائیں گے۔ یہ خواب گویا کہ مہدی کے حق میں تائید مزید (additional support) کے ہم معنی ہوں گے۔ ایسے خوابوں کو دیکھنے والے اہل ایمان یہ یقین کر لیں گے کہ یہی وہ شخص ہے جس کی پیشین گوئی حدیث میں مہدی کے لفظ سے کی گئی ہے، اور پھر وہ دل سے اس کے ساتھی بن جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues

Printed page