خاتمہ کا آغاز
الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۱۳
حدیث میں بہت پہلے کی گئی تھی۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ غالباً دوسرے نشانات جو حدیث میں بتائے گئے ہیں، وہ ظاہر ہو چکے ہیں۔ دخان کا معاملہ غالباً آخری نشانی سے پہلے کی نشانی (last but one) کا معاملہ ہے اس کے بعد جو نشانی ظاہر ہونے والی ہے، وہ غالباً سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا ہے۔ اس کے بعد غالباً آخری واقعہ ہوگا، یعنی فرشتہ اسرائیل کا صور پھونکنا۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ الفاظ آئے ہیں : هذا عذاب أليم۔ یہاں عذاب سے مراد غالباً قیامت کا عذاب نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جس کے لیے قرآن (السجدة : 21) میں دوسری جگہ عذاب ادنیٰ کا لفظ آیا ہے (ولنذيقنهم من العذاب الأدنى دون العذاب الأكبر )۔ قرآن کے مطابق، بڑا عذاب وہ ہے جو قیامت کے وقت صورِ اسرافیل کے بعد آئے گا، لیکن اس سے پہلے چھوٹے چھوٹے علامتی عذاب آئیں گے، تاکہ لوگ متنبہ ہو کر اپنی اصلاح کر لیں۔ گلوبل وارمنگ، پانی کی شدید قلت، زلزلوں کی کثرت اور دخان وغیرہ، اِسی قسم کے چھوٹے عذاب ہیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ انسان متنبہ ہو، اس سے پہلے کہ وہ وقت آجائے جب کہ متنبہ ہونا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues