Al-Risala · June 2010 · page 14

اصحابِ رسول

الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۱۴

اصحابِ رسول

اصحابِ رسول دراصل پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر اہلِ ایمان تھے۔ اصحابِ رسول کو قرآن میں خیرامت (آل عمران: 110) کہا گیا ہے۔ اصحابِ رسول امتیازی اوصاف کے حامل تھے۔ ان کی صفتیں قرآن میں مختلف مقامات پر آئی ہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہاں نقل کی جاتی ہے: محمد رسول الله، والذين معه أشداء على الكفار رحماء بينهم، تراهم ركعاً سجداً يبتغون فضلاً من الله ورضوانا، سيماهم في وجوههم من اثر السجود، ذلك مثلهم فى التوراة. ومثلهم فى الإنجيل كزرع أخرج شطأه فآزره فاستغلظ فاستوى على سوقه، يعجب الزراع ليغيظ بهم الكفار، وعد الله الذين امنوا وعملوا الصالحات منهم مغفرة وأجراً عظيماً (الفتح: 29)

محمد، اللہ کے رسول ہیں۔ جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں، وہ منکروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔ تم ان کو رکوع میں اور سجدہ میں دیکھو گے۔ وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا مندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے، سجدہ کے اثر سے۔ ان کی یہ مثال تو رات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی، اُس نے اپنا نکھو انکا لا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹا ہوا اور پھر وہ اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا۔ وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے، تا کہ اُن سے منکروں کو جلائے۔ اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ نے اُن کے لیے معافی کا اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں اصحابِ رسول کے امتیازی اوصاف کو دو تاریخی پیشین گوئیوں کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک پیشین گوئی وہ جو تورات میں آئی ہے، اور دوسری پیشین گوئی وہ ہے جس کا ذکر انجیل میں موجود ہے۔ تو رات میں اصحابِ رسول کا پیشگی ذکر ان الفاظ میں آیا ہے: وہ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا:

He came with ten thousands of saints (Deuteronomy 33:2)

‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues

Printed page