يبتغون فضلاً من الله ورضواناً
الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۱۷
ہاتھ میں ہے اور ناکامی کا سرا بھی اللہ کے ہاتھ میں ۔ وہ ہر دوسری چیز سے زیادہ اللہ پر بھروسہ کرنے والے بن گئے تھے ، اُن کی امیدیں اور آرزوئیں تمام تر اللہ پر منحصر ہوگئی تھیں ۔ سيماهم في وجوههم من أثر السجود اصحابِ رسول کی چھٹی صفت کو قرآن میں ”سیماهم في وجوههم من أثر السجود“ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اصحابِ رسول کی دریافتِ حقیقت نے اُن کے اندر آخری حد تک وہ صفات پیدا کردیں جن کو سنجیدگی (sincerity) اور تقویٰ اور تواضع (modesty) کہا جاتا ہے۔ یہی کمالِ انسانیت کی پہچان ہے، یہی وہ صفات ہیں جو کسی انسان (man) کو سپر انسان(super man) بناتی ہیں۔ ان صفات کی حامل شخصیت کو ربانی شخصیت (divine personality) کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول بلاشبہہ ان صفات میں کمال درجے پر تھے۔ اس کے بعد اصحابِ رسول کی اُس خصوصیت کو بیان کیا گیا ہے جس کا ذکر انجیل میں حضرت مسیح کی زبان سے ان الفاظ میں آیا ہے: ”اُس نے ایک اور تمثیل ان کے سامنے پیش کر کے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اُس رائی کے دانے کی مانند ہے جس کو کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بودیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے، مگر وہ جب بڑھتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہو جاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آکر اس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں:“ Another parable He put forth to them, saying: “The kingdom of heaven is like a mustard seed, which a man took and sowed in his field, which indeed is the least of all the seeds, but when it is grown, it is greater than the herbs and becomes a tree, so that the birds of the air come and nest in its branches”. (Mathew 13:31-32)
اصحابِ رسول کی جو صفت تو رات میں مختصر ا اور قرآن میں تفصیلاً بیان کی گئی ہے، اُس کا تعلق اصحابِ رسول کی انفرادی خصوصیات سے ہے۔ یہ اعلیٰ خصوصیتیں ہر صحابی کے اندر کامل درجے میں پائی جاتی تھیں ۔ ان خصوصیات نے ہر صحابی کو، ایک مستشرق کے الفاظ میں ، ہیرو (hero) بنادیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues