Al-Risala · June 2010 · page 16

يبتغون فضلاً من الله ورضواناً

الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۱۶

آپس میں ایک دوسرے کے لیے آخری حد تک ہمدرد اور خیر خواہ ہونا۔ اس صفت کی غیر معمولی اہمیت اُس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ اصحاب رسول کے درمیان وہ تمام اختلافات (differences) موجود تھے جو ہر انسانی گروہ کے درمیان فطری طور پر پائے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ بنیان مرصوص (الصّف : 4) کی طرح باہم متحدر ہے، انھوں نے اس صلاحیت کا ثبوت دیا کہ وہ اختلاف کے باوجود آپس میں متحد ہو سکتے ہیں، وہ شکایتوں کے باوجود ایک دوسرے کے خیر خواہ بن سکتے ہیں، وہ منفی اسباب کے باوجود اپنے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ اصحاب رسول کی یہی صفت تھی جس کی بنا پر وہ توحید پر مبنی وہ انقلاب لا سکے جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ تراهم رکعاً سجداً اصحاب رسول کی چوتھی صفت کو "تراهم رکعاً سجداً" کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصحاب رسول کامل طور پر اللہ کے آگے جھکے ہوئے تھے، ان کے اندر کامل درجے میں خود سپردگی کا مزاج پیدا ہو گیا تھا، اللہ کی کبریا کی معرفت ان کو اتنے بڑے درجے میں حاصل ہوئی تھی، جب کہ انسان شعوری طور پر اللہ کی قدرت کاملہ کا ادراک کر لیتا ہے اور اس کے اندر اپنے عاجز مطلق ہونے کا شعور اس طرح پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ اللہ کے آگے جھک جاتا ہے۔ اس کے دل و دماغ میں اللہ کی بڑائی کے سوا کوئی اور بڑائی باقی نہیں رہتی، اس کا واحد کنسرن (sole concern) اللہ وحدہ لا شريك بن جاتا ہے۔ یہی توحید کامل ہے، اور اصحاب رسول اِس توحید کامل میں آخری درجے پر پہنچے ہوئے تھے۔

يبتغون فضلاً من الله ورضواناً

اصحاب رسول کی پانچویں صفت وہ ہے جس کو قرآن میں "يبتغون فضلاً من الله ورضواناً" کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصحاب رسول کی معرفت نے اُن کے اندر اللہ کی ذات پر کامل یقین پیدا کر دیا تھا، وہ اللہ پر کامل اعتماد (confidence) والے بن گئے تھے، وہ یہ سمجھنے لگے تھے کہ دینے والا بھی اللہ ہے اور چھینے والا بھی اللہ، کامیابی کا سرا بھی اللہ کے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues

Printed page