علم توحید
الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۲۴
علم توحید
توحید کا عقیدہ اسلام میں اساسی عقیدے کی حیثیت رکھتا ہے۔ توحید کے موضوع پر عربی اور دوسری زبانوں میں بہت زیادہ کتابیں لکھی گئی ہیں۔ آپ ان کتابوں کو پڑھیں تو اُن میں آپ کو غرض و غایت کے اعتبار سے، اس طرح کے الفاظ لکھے ہوئے ملیں گے: علم توحید سب سے افضل علم ہے۔ معاذ بن جبل کی مشہور روایت میں توحید کے عقیدے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولیت دی تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ توحید کا علم سب سے افضل علم ہے، وغیرہ۔
علم توحید بلاشبہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ اہمیت اس بنا پر نہیں ہے کہ وہ ایک افضل علم ہے۔ علمی اعتبار سے اس کی اہمیت یہ ہے کہ وہ ایک اساسی علم ہے۔ اساسی علم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ توحید ہی وہ بنیاد ہے جس پر بقیہ اسلامی اعمال کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ توحید کی اساس نہیں تو بقیہ اعمال بھی نہیں۔
توحید محض ایک روایتی عقیدے کا نام نہیں۔ توحید دراصل عظیم ترین فکری انقلاب ہے جو عظیم ترین فکری دریافت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ توحید یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اپنے خالق اور مالک کی حیثیت سے دریافت کرے۔ اللہ جو پوری کائنات کا خالق اور مالک ہے، اس کی دریافت جب کسی انسان کو ہوتی ہے تو اس کے ذہن میں ایک فکری بھونچال پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر معرفت کا سمندر ایک طوفان بن کر داخل ہو جاتا ہے۔ اس کی سوچ اور اس کے جذبات میں ایک کامل نوعیت کی تبدیلی آ جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اسی نئے انسان کا نام موحد انسان ہے۔ اسلامی دعوت کے کام کا آغاز یہ ہے کہ انسان کے اندر عقیدہ توحید کی بنیاد پر ایک فکری انقلاب برپا کیا جائے۔ اس فکری انقلاب کے بعد ہی ایک انسان موحد انسان بنتا ہے، اور جب اس انقلابی فکر کے حامل بہت سے افراد پیدا ہو جائیں تو اُن کے مجموعے سے وہ معاشرہ پیدا ہوتا ہے جس کو اسلامی معاشرہ کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues