Al-Risala · June 2010 · page 23

دعوتِ مشن

الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۲۳

دعوتِ مشن

ایک صاحب نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کسی برنگ اشو (burning issue) کو لے کر ایک کا نفرنس کیجئے اور اُس میں بڑے بڑے لوگوں کو اسٹیج پر بلائیے۔ آپ کی کا نفرنس میں لوگ بڑی تعداد میں آئیں گے اور پھر آپ کو موقع ملے گا کہ آپ زیادہ وسیع پیمانے پر اپنا پیغام لوگوں تک پہنچا سکیں ۔ آپ کا موجودہ کام فرد پر مبنی کام ہے۔ اس بنا پر عوام کی بھیڑ آپ کے ساتھ شامل نہیں ہوتی۔ میں نے کہا کہ دعوتِ مشن کا نشانہ متلاشی (seeker) انسان ہوتا ہے، نہ کہ بھیڑ یا بڑی بڑی شخصیتیں ۔ متلاشی انسان کے لیے سچائی اس کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ بڑی شخصیتوں کے لیے سچائی ان کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے یہ لوگ اس کی طرف راغب بھی نہیں ہوتے ۔ دعوتِ مشن در اصل متلاشی انسان کی تلاش کا دوسرا نام ہے:

Dawah mission is a hunting process to find out the seekers. قرآن کی سورہ نمبر 80 (عبس) میں اس حقیقت کو ایک مثال کے ذریعے واضح کیا گیا ہے۔ ایک بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں مکہ کے کچھ سردار موجود تھے۔ آپ اُن سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس دوران ایک صاحب آ گئے، وہ نابینا تھے۔ ان کا نام عبد اللہ بن ام مکتوم تھا۔ رسول اللہ نے ان کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی۔ اس پر یہ سورہ اتری۔ اس واقعے کے بعد رسول اللہ کا یہ حال ہوا کہ جب عبد اللہ بن ام مکتوم آپ کے پاس آتے تو آپ اُن کے لیے اپنی چادر بچھا دیتے اور فرماتے: مرحباً بمن عاتبنی فیہ ربی (القرطبی، جلد 19، صفحہ 211) یعنی اُس کے لیے مرحبا، جس کے بارے میں میرے رب نے مجھ پر عتاب فرمایا۔

دعوت اپنے عموم کے اعتبار سے ہر انسان کے لیے ہوتی ہے، لیکن دعوت کا خصوصی نشانہ متلاشی افراد ہوتے ہیں۔ یہی وہ افراد ہیں جن کے اندر نفسیاتِ تجسس پائی جاتی ہے اور جن افراد کے اندر نفسیاتِ تجسس ہو، وہی دعوت پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں اور آگے بڑھ کر اس کو قبول کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues

Printed page