Al-Risala · June 2010 · page 26

داعی کا ذہن

الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۲۶

داعی کا ذہن

دعوت اپنی حقیقت کے اعتبار سے، انسان کے لیے اپنی خیر خواہی کا اظہار ہے۔ داعی وہی شخص بن سکتا ہے جس کے دل میں انسان کے لیے کامل خیر خواہی پائی جائے۔ یہ خیر خواہی یک طرفہ خیر خواہی ہوتی ہے۔ جو داعی، انسان کے لیے یک طرفہ خیر خواہ نہ ہو، وہ کچھ اور ہو سکتا ہے، مگر وہ داعی نہیں ہو سکتا۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔

انسان کے حق میں اپنی یک طرفہ خیر خواہی کو برقرار رکھنے کے لیے انسان کو مسلسل جد و جہد کرنی پڑتی ہے۔ اس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ پیش آمدہ افکار اور واقعات کی ایسی توجیہہ تلاش کرے جو اُس کو کامل طور پر منفی سوچ سے بچائے اور اس کی مثبت مزاجی (positivity) کو مسلسل طور پر برقرار رکھے۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں نو آبادیات (colonialism) کا زمانہ آیا۔ اُس زمانے میں سید جمال الدین افغانی (وفات: 1897) موجود تھے۔ وہ اس ظاہر رے کی مثبت توجیہہ نہ کر سکے۔ چناں چہ وہ اور ان کے جیسے دوسرے مسلم علماء اور رہنما منفی سوچ کا شکار ہو کر رہ گئے۔ اس طرح وہ داعی کے رول کے لیے نااہل بن گئے۔

یہی معاملہ دوسرے پہلوؤں سے ہوا ہے۔ موجودہ زمانے میں وطن پر مبنی قومیت (land-based nationality) کا نظریہ پیدا ہوا تو ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938) اس کی مثبت توجیہہ نہ کر سکے اور منفی ردعمل کے طور پر انھوں نے یہ اعلان کیا کہ:

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیر ہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے اسی طرح موجودہ زمانے میں جدید جمہوریت (democracy) کا سیاسی نظریہ پیدا ہوا تو مولا نا سید ابوالاعلیٰ مودودی (وفات: 1979) اس کی مثبت توجیہہ نہ کر سکے اور اس کو لا دینی جمہوریت قرار دے کر اُس کے مخالف بن گئے۔ اس طرح اپنی اس منفی سوچ کی بنا پر وہ جدید جمہوری دور میں داعی کا رول ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues

Printed page