داعی کا ذہن
الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۲۷
اسی طرح مصر میں جمال عبد الناصر (وفات: 1970) کی قیادت میں سیکولر بعث پارٹی حکمراں بن گئی۔ سید قطب (وفات: 1966) اس ظاہرے کی مثبت توجیہ نہ کر سکے۔ اپنے منفی ذہن کی بنا پر انھوں نے اس کے خلاف لڑائی چھیڑ دی۔ اس طرح وہ جدید سیکولر دور میں داعی کا رول ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔
اسی طرح دوسری جنگ کے بعد امریکا سپر پاور بن کر ابھرا۔ اس نے دوسرے ملکوں میں مداخلت کی سیاست شروع کی تو ساری دنیا کے مسلم ذہن اس کے مقابلے میں منفی رد عمل کا شکار ہو گئے، وہ اس جدید ظاہرے کی مثبت توجیہ نہ کر سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام مسلمانوں نے امریکا کو اسلام کا دشمن نمبر ایک (عدو الإسلام رقم واحد) سمجھ لیا۔ اس طرح وہ جدید دور میں داعی کا رول ادا کرنے کے قابل نہ رہے، وغیرہ۔
داعی کو دوسرے انسانوں کے درمیان دعوت الی اللہ کا کام کرنا پڑتا ہے۔ دعوت الی اللہ کا کام مکمل خیر خواہی کی بنیاد پر انجام پاتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں ہر فرد اور ہر گروہ کو آزادی حاصل ہے۔ اس بنا پر لوگوں کی طرف سے بار بار ایسے قول اور فعل کا مظاہرہ ہوتا ہے جو داعی کے اندر منفی ذہن پیدا کر دے۔ یہ صورتِ حال ہمیشہ پیش آتی ہے۔ اس میں کسی دور یا کسی گروہ کا کوئی استثناء نہیں۔ اس صورتِ حال کا حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ داعی کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ ہر ناخوش گوار واقعے کی فوری طور پر مثبت توجیہ تلاش کر لے اور اس طرح وہ اپنے مثبت ذہن کو مسلسل طور پر باقی رکھے۔ داعی کی شخصیت کا مل طور پر ایک مثبت شخصیت ہوتی ہے۔ داعی اس کا تحَمّل نہیں کر سکتا کہ اس کی مثبت شخصیت میں ادنی ایروژن (erosion) پیدا ہو۔
حق کی دعوت کسی اعلان (announcement) کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ مدعو کے حق میں خیر خواہی کے اظہار کا نام ہے۔ یہ خیر خواہی کامل اور غیر مشروط درجے میں ہونی چاہیے۔ خیر خواہی میں ادنی کمی بھی داعی کو اس کے لیے نااہل بنا دیتی ہے کہ وہ دعوتِ حق کا مطلوب رول ادا کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues