نہ ماننے کا مزاج
الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۲۹
نہ ماننے کا مزاج
جب اللہ تعالیٰ نے پہلے انسان (آدم) کو پیدا کیا تو اُس وقت دو اور مخلوق، جنات اور فرشتے، موجود تھے۔ اللہ نے دونوں سے کہا کہ تم انسان کے آگے جھک جاؤ۔ فرشتے جھک گئے، لیکن جن کا سردار ابلیس نہیں جھکا۔ یہ ایک مظاہرہ تھا۔ اس کے ذریعے انسان کو بتایا گیا کہ ماننے کا مزاج ملکوتی مزاج ہے اور نہ ماننے کا مزاج شیطانی مزاج ۔ کسی کی بڑائی کا اعتراف کرکے آدمی فرشتوں کی صف میں شامل ہوجاتا ہے۔ اور بڑائی کا اعتراف نہ کرنے سے وہ شیطان کی جماعت کا ممبر بن جاتا ہے۔ آغاز تخلیق میں ابلیس نے کہا تھا کہ میں تمام انسانوں کو بہکاؤں گا، یہاں تک کہ وہ میرے راستے پر چلنے لگیں گے۔ ابلیس کا یہ اعلان بہت زیادہ سنگین ہے۔ وہ اس دنیا میں کسی انسان کے لیے صحیح اور غلط کا معیار بتا رہا ہے۔ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جانچے اور دیکھے کہ وہ اپنی زندگی میں فرشتوں کے راستے پر چل رہا ہے، یا ابلیس کے راستے پر۔
خالق نے اس دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ لوگوں کے درمیان برابری نہیں ہے۔ مختلف پہلوؤں سے لوگوں کے درمیان فرق پایا جاتا ہے، کوئی کم ہے اور کوئی زیادہ۔ یہ صورت حال ہر عورت اور مرد کے لیے آزمائش ہے۔ اس دنیا میں ہر ایک کا سابقہ کہیں نہ کہیں کسی ایسے انسان سے پیش آتا ہے جو کسی پہلو سے اس کے مقابلے میں بڑائی رکھتا ہو۔ یہ بڑائی خدا کی دی ہوئی ہوتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ ایسے ہر موقع پر وہ کھلے طور پر دوسرے انسان کا اعتراف کرے۔ یہ اعتراف اُس کے لیے سب سے بڑی نیکی کے ہم معنی ہے۔
بڑائی کے انکار کی دو صورتیں ہیں—ایک یہ کہ براہ راست طور پر اس کا انکار کیا جائے۔ دوسرا طریقہ بالواسطہ انکار کا طریقہ ہے، یعنی ایک ایسی بات کہنا جس سے بالواسطہ طور پر دوسرے انسان کی بڑائی کی نفی ہوتی ہو۔ یہ دونوں طریقے یکساں طور پر برے طریقے ہیں، حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues